فلاحی تنظیموں کی دوبارہ رجسٹریشن پر غور

نواز شریف نے کہا ہے کہ خصوصی عدالتوں کا قیام بھی دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان کا حصہ ہے

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشننواز شریف نے کہا ہے کہ خصوصی عدالتوں کا قیام بھی دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان کا حصہ ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی حکومت نے فلاحی تنظیموں کی جانب سے شدت پسندوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ان تنظیموں کی دوبارہ رجسٹریشن پر زور دیا ہے۔

ادھر وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خصوصی عدالتیں اس قومی ایکشن منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد دہشت گردی سے مقابلہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے مقدمات ان عدالتوں میں سنے جائیں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد اجلاس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات پرویز رشید، احسن اقبال اور عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی۔

اجلاس کا بنیادی مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیار قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے خصوصی عدالتوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں بچوں، عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے قاتلوں کے مقدمات چلائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالتیں غیرمعمولی حالات کے متقاضی غیرمعمولی اقدمات ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ قومی اتفاق رائے کے مظہر اس منصوبے پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔

اس اجلاس سے قبل وزیر خزانہ نے دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کی فنڈنگ سے متعلق قائم سب کمیٹی کے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں فلاحی تنظیموں کے لبادے میں دہشت گردی کے لیے فنڈنگ جمع کرنے کے معاملے پر غور کیا گیا اور ایسی تمام تنظیموں کی دوبارہ رجسٹریشن اور ان پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ماہرین نے منشیات کی سمگلنگ کے ذریعے ان شدت پسند نیٹ روکس کی فنڈنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس حوالے سے بین الاقوامی ایجنسیوں سے رابطے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس میں وزارت خزانہ، داخلہ اور فیڈرل بورّ آف ریونیو اور سٹیٹ بنک کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ اکثر اوقات سکیورٹی اداروں کی توجہ سرپرستوں کی بجائے دہشت گردوں کو پکڑنے پر مرکوز ہوتی ہے جو کہ مسئلے کی اصل جڑ ہے۔

اجلاس میں تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں کی مالی معاونت تلاش کرنے کی صلاحیت کی کمی بھی محسوس کی گئی۔