’بیانات کے برعکس مولانا عبدالعزیز شاملِ تفتیش ہونا چاہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے نمائندے پولیس سٹیشن آئے تھے اور انھوں نے یہ یقین دہانی کروائی کہ مولانا عبدالعزیز اس مقدمے میں شاملِ تفتیش ہوں گے اور قانون کے تحت جو بھی وضاحتیں درکار ہوں گی وہ دیں گے۔
یہ بات اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز عصمت اللہ جونیجو نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا ’ان کے نمائندوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ کہ وہ (مولانا عبدالعزیز) خود پولیس سٹیشن آکر اپنا بیان بھی ریکارڈ کروائیں گئے۔‘
عصمت اللہ جونیجو کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو ملزم کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ 14 دن کے اندر متعلقہ تھانے میں پیش ہو کر الزامات کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔
مولانا عبدالعزیز کی جانب سے گرفتاری نہ دینے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ جو بیانات ذرائع ابلاغ میں آ رہے ہیں ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔
’بیانات کے برعکس وہ ضمانتی مچلکے حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘
عصمت اللہ جونیجو نے بتایا کہ قانون کے تحت کسی بھی ایف آر کی ابتدائی تفتیش کے لیے پولیس کے پاس چودہ دن کی مہلت ہوتی ہے اور پولیس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد اس کیس کو مکمل کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی ار جھوٹی ہونے کے بیان پر ایس ایس پی آپریشن نے کہا’یہ قبل از وقت ہے کیونکہ اس بات کا فیصلہ تفتیش مکمل کرنے اور تمام فریقین کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعدہی کیا جا سکتا ہے۔‘
’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایک اہم مقدمہ ہے جس کی تفتیش صرف ایس ایچ او نہیں کر رہا بلکہ دیگر افسران بھی اس میں شامل ہیں اور مقدمے کا فیصلہ صرف میرٹ پر ہوگا۔‘
گذشتہ کچھ عرصے میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے جب مولانا عبدالعزیز کے ورانٹ جاری ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے جو بھی فرقہ ورایت اور دہشت گردی کی حمایت کرے گا اُس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
جب ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو سے پوچھا گیا کہ مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے حوالے سے ان کا موقف تھا کہ ’ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا‘۔







