اگر واقعی یہ عمران خان کی جنگ بن گئی؟

اسلام آباد کی لال مسجد پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں آپریشن کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسلام آباد کی لال مسجد پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں آپریشن کیا گیا تھا
    • مصنف, عامر احمد خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پشاور حملے کے کچھ روز بعد ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر سے بات ہوئی۔ کہنے لگے کیا ہو گا، کچھ نہیں ہو گا کیونکہ طالبان ہمارے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ہم نے خود فریبی کے ایسے چشمے لگائے ہوئے ہیں کہ ہمیں کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔

پھر کہنے لگے کہ ’میں عسکری کالونی میں رہتا ہوں جسے فوج نے بنایا ہے اور ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی چلاتے ہیں۔ میری کالونی میں چار بلاک ہیں اور ہر بلاک کی علیحدہ مسجد ہے جن سب کے امام فوج کے تنخواہ دار ہیں۔

’میں ہر جمعے کو باقاعدگی سے نماز کے لیے مسجد جاتا ہوں۔ میں آپ کو بتاؤں کہ جب سے ضرب عضب شروع ہوا ہے، ایک دفعہ بھی ان میں سے کسی مسجد کے امام نے کھل کر یہ نہیں کہا کہ یا خدا ہماری پاک افواج کو طالبان پر فتح دے اور ان دہشت گردوں کو نیست و نابود فرما۔ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ یا خدا اسلام کی خدمت کرنے والوں کو فتح یاب کر۔‘

بریگیڈیئر صاحب کو اس بات پر بھی رنج تھا کہ گو اس مسجد میں کئی فوجی افسر اور جوان جمعے کی نماز پڑھنے آتے ہیں لیکن خود ان سمیت کبھی کسی نے امام سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کھل کر طالبان کا نام کیوں نہیں لیتے، ان کی مذمت کیوں نہیں کرتے اور ان کے خلاف پاک افواج کی فتح کے لیے دعاگو کیوں نہیں ہوتے؟

مشرف پر حملے میں ملوث ارشد محمود کے جنازے میں خاصی بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمشرف پر حملے میں ملوث ارشد محمود کے جنازے میں خاصی بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

اس گفتگو کے چند ہی روز بعد ایک سزا یافتہ مجرم ارشد محمود کو پھانسی ہوئی اور اس کے جنازے کے مناظر کی تصاویر سامنے آئیں۔ اس کا تقریباً پورا گاؤں جنازے کے لیے امڈ آیا تھا اور درجنوں افراد اس کی لاش کو کندھا دینے کی سعی میں نظر آئے۔

ظاہر ہے کہ طالبان سے یہ ہمدردی محض حکومت یا فوج کی جانب سے نہیں جو محض ایک پالیسی کی تبدیلی سے ختم ہو جائے۔

ذرا اسلام آباد کی لال مسجد کا ذکر کرتے ہیں جس کے خطیب مولوی عبد العزیز آج کل سول سوسائٹی کے محاصرے میں ہیں۔ پشاور حملے کی مذمت سے انکار پر سوشل ایکٹیوسٹ جبران ناصر کا پیمانۂ صبر لبریز ہوا، انھوں نے احتجاج کی کال دی۔ پہلے انھیں مولوی عبدالعزیز نے دھمکایا اور پھر طالبان نے، لیکن وہ اب بھی اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جبران ناصر کہتے ہیں کہ وہ اپنا احتجاج تب تک نہیں چھوڑیں گے جب تک طالبان کے ہمدردوں کو بھی طالبان کی طرح ملک دشمن نہ کہا جائے۔

اپنے اس جذبے میں وہ تنہا نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی ایک عرصے سے حکومت اور عوام کی توجہ طالبان کے ہمدردوں کی جانب دلا رہی ہے لیکن انھیں اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔

پشاور دھماکے کے اگلے ہی روز پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے ایک پریس کانفرنس میں عین یہی مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم تو باقاعدہ لال مسجد والوں کے خلاف جلسے جلوس کر رہی ہے اور الطاف حسین کا مطالبہ ہے کہ لال مسجد کو انتہا پسندوں سے آزاد کرایا جائے۔

پاکستان کی موجودہ عسکری و سیاسی قیادت اچھے برے طالبان میں تمیز سے توبہ کر چکی ہے۔ لیکن کیا پاکستان میں موجود طالبان ہمدردوں کے احتساب کے بغیر برسوں پرانی وہ پالیسیاں جو آخرکار پشاور میں بچوں کے قتل عام کی وجہ بنیں، ترک کی جا سکتی ہیں؟

اس وقت یہ ملکی قیادت کے سامنے کئی سوالوں میں سے شاید اہم ترین سوال ہے۔

اور وزیر اعظم نواز شریف یہ مانیں نہ مانیں اس کے جواب کی ایک اہم کڑی اس وقت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔

ایک عرصے کی حیل و حجت کے بعد عمران خان کی جماعت نے باقاعدہ نام لے کر طالبان کی مذمت کی ہے۔ یہ ان کے پارٹی کے سربراہ کے وزیر اعظم کی جانب سے طلب کی جانے والی کل جماعتی مشاورت کا حصہ بننے کے فیصلے کے فوراً بعد ہوا۔

پچھلے سال کے انتخابات کے بعد اب تک عمران خان کی سیاست کے دو پہلو نمایاں رہے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ پاکستان کی روایتی سیاست کی نسبت قدرے غیر متوقع سوچ اور عمل کے حامل ہیں۔ وہ خود بی بی سی اردو سے کہہ چکے ہیں کہ تبدیلی لانے کے لیے تھوڑا بہت پاگل پن ضروری ہوتا ہے۔

اور دوسرا یہ کہ ان کے چاہنے والے ہر صورت ان کے ایک اشارے پر سڑکوں پر آنے کو تیار ہوتے ہیں۔

اسلام آباد میں لال مسجد کے خطیب کے بیان کے خلاف سول سوسائٹی کے ارکان حرکت میں آ گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں لال مسجد کے خطیب کے بیان کے خلاف سول سوسائٹی کے ارکان حرکت میں آ گئے ہیں

اگر حکومت اور فوج اچھے برے طالبان میں تفریق نہ کرنے کے عزم میں سنجیدہ ہے تو اس وقت پاکستانی معاشرے میں موجود طالبان کے حمایتیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے شاید اسی قسم کے پاگل پن کی ضرورت ہے۔

جس طرح کا احتجاج جبران ناصر نے لال مسجد کے سامنے شروع کیا ہے اسے ملک کی گلی گلی پہنچانے میں جو کردار عمران خان ادا کر سکتے ہیں دوسرا شاید کوئی نہ کر پائے کیونکہ پاکستان کے جس طبقے کی خاموشی اس 13 سالہ جنگ میں سب سے زیادہ گونجی ہے اسی طبقے کا ایک بڑا حصہ آج عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔

اگر وہ اس جنگ کو اپنا لیں تو پھر جہاں ملک کے سکیورٹی ادارے قبائلی علاقوں میں طالبان سے جنگ آزما ہونگے وہیں عمران خان کے حمایتی طالبان کی سوچ کے خلاف ملک کی گلی گلی میں لڑ رہے ہوں گے۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی جماعت انھیں اس معاملے میں اپنا حقیقی حلیف سمجھے۔

منگل کے روز پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے خیبر پختونخواہ کی پولیس کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی پولیس کے پاس ایک فون کال ٹریس کرنے تک کی سہولت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے صوبے کے کئی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مدد مانگی۔

اب یہ فیصلہ میاں نواز شریف کو کرنا ہے کہ عمران خان کی باتوں میں انھیں ایک سیاسی حریف کے مطالبات سنائی دے رہے ہیں یا ایک بیش قدر حلیف کی مدد کی پیشکش بھی اور پکار بھی۔