ملک بھر میں سریع الحرکت فورس کی تعیناتی کی تجویز

پشاور سانحے کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپشاور سانحے کے بعد پورے ملک میں سیکیورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پشاور میں آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد بنائی جانے والی قومی ایکشن کمیٹی نے پورے ملک میں سریع الحرکت فورس تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔

اس کے علاوہ پارلیمنٹ کی قومی ایکشن کمیٹی نے قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کو مذید فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

کمیٹی میں جن نکات پر اتفاق رائے ہوا ان میں نیکٹا کے ذریعے ملک بھر میں شدت پسندوں کے کوائف اکھٹے کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

اجلاس میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ملک بھر میں شائع ہونے والے شدت پسندانہ رجحان کو ہوا دینے والے قابل اعتراض مواد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ1997 کے شیڈول فور کے تحت جرم تصور کیا جائے جس میں پرنٹر اور پبلشر کے لیے خلاف بھی سخت سزائیں تجویز کی گئیں ہیں۔

اجلاس میں مذہبی اجتماعات پر پابندی پر اتفاق کیا گیا ہے جس میں لوگوں کو جمع کرکے کسی مسلک کے خلاف نفرت پھیلانے پر پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ پر پابندی لگانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc

اجلاس میں دہشت گردوں کو سرمائے کی فراہمی روکنے کےلیے ایف آئی اے میں خصوصی ونگ کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے ارکان نے دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ پرکنٹرول سے متعلق صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ اپنے صوبوں کو اسلحہ سے پاک کریں، اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں انتظامی اور قانونی مسائل کا جلد از جلد حل تلاش کیا جائے۔ اجلاس میں میڈیا سے متعلق بھی اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے کسی بھی قسم کے بیان یا پیغام نشر کرنے پر پابند ی ہوگی۔

اجلاس میں پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے تمام ’سٹیک ہولڈرز‘ کے ساتھ مشاورت کرکے اُنھیں اپنے وطن واپس بھجوانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی اور بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے مذید اقدامات کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔