پشاور حملہ دنیا بھر کےذرائع ابلاغ کی نظر میں

،تصویر کا ذریعہReuters
دنیا بھر کے اخبارات، نیوز ویب سائٹس، ٹیلی وژن چینلز اور دیگر ذارائع ابلاغ نے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہونے والے قتلِ عام کو سرخیوں میں جگہ دی۔
برطانیہ کا روز نامہ ٹیلیگراف لکھتا ہے ’پاکستان میں سکول پر حملہ: طالبان کی جانب سے بنائے گئے یرغمالیوں میں سے 126 کی ہلاکت کا خدشہ۔‘
اخبار نے بین لاقوامی رہنماوں کی جانب سے جاری مذمتی بیانات کو بھی شائع کیا ہے۔
روز نامہ گارڈین کی سرخی بھی پشاور حملے کے حوالے سے ہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے : پاکستان میں فوج کے زیر انتظام اسکول پر طالبان حملے میں 120 سے زائد افراد ہلاک۔
گارڈین نے اپنی ویب سائٹ پر پشاور حملے کے بعد کھینچی گئی تصاویر اور سابق برطانوی وزیراعظم اور تعلیم کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی مندوب گورڈن براون کا پشاور حملے کے حوالے سے جاری تفصیلی مذمتی بیان بھی شائع کیا ہے۔
روز نامہ انڈیپینڈنٹ نے اپنی سرخی میں اس حملے کو معصوموں کا قتلِ عام قرار دیا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر اخبار نے حملے میں زحمی ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔
انڈیپینڈنٹ کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ملالہ یوسفزئی، جو 2012 میں خود بھی طالبان کی دہشت گردی کا شکار ہوئیں تھیں، نے اس حملے کو ظالمانہ اور بزدلانہ قرار دیا ہے۔
امریکہ کے جریدے نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے: پاکستان میں سکول پر طالبان حملے میں سینکڑوں ہلاک۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان اس وقت پہلے ہی شدید سیاسی مسائل سے دوچار ہے اور عمران خان جن کی پارٹی کی متاثرہ صوبے میں حکومت ہے، ملک بھر میں گزشتہ انتخابات میں کی گئی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی ریلیاں منعقد کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اخبارات اور ویب سائٹس کے علاوہ نیوز چینلز نے بھی اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر کور کیا۔
الجزیرہ نے اپنی خبر میں اس واقعے کو بچوں کا قتلِ عام قرار دیا۔
سکائی نیوز کے مطابق سکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد چھ تھی اور انھوں نے خود کش جیکٹیں پہنی ہوئی تھی۔ نیوز چینل نے اس دہشت گردی کی کارروائی میں 122 افراد کے ہلاک ہونے کو رپورٹ کیا ہے۔
سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں 126 افراد مار گئے، جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ چینل نے ماضی میں پشاور میں ہونے والی دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں کا ذکر بھی کیا ہے۔







