’فاٹا کی عوام فیصلہ کرے کے پی کے سے الحاق یا علیحدہ یونٹ‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت اور دیگر متعلقہ فریق بے گھر ہوئے افراد کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپاکستان پیپلز پارٹی کی عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت اور دیگر متعلقہ فریق بے گھر ہوئے افراد کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہے ہیں

قومی اسمبلی میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے وزیر عباس خان آفریدی نے پیر کو مطالبہ کیا کہ فاٹا میں ریفرینڈم کرا کے رائے لی جائے کہ وہاں کی عوام خیبرپختونخوا کے ساتھ الحاق چاہتی ہے یا علیحدہ قانون ساز اسمبلی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عباس آفریدی نے یہ مطالبہ ملک کے قبائلی علاقوں کے بے گھر افراد کے حوالے سے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے قانون سازی وقت کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح فاٹا بھی ترقی کرسکے ۔

اس سے قبل بحث شروع کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت اور دیگر متعلقہ فریق بے گھر ہوئے افراد کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے لوگوں کو اس بات کے انتخاب کا حق دینا چاہیے کہ وہ خیبرپختونخوا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا انھیں علیحدہ انتظامی یونٹ کی ضرورت ہے۔

آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے افسوس ظاہر کیا کہ نقل مکانی کرنیوالے افراد کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیاگیاہے۔ اُنہوں نے بے گھر افراد کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر غازی گلاب جمال نے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ کمیٹی کی صدارت قومی اسمبلی کے سپیکر کو کرنی چاہیے۔

شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ پاک فوج جس انداز میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر ون کررہی ہے اس سے فاٹا میں جلد امن بحال ہوجائے گا۔