چارسدہ میں پولیو ٹیم پر حملہ، ایک رضاکار زخمی

پاکستان دنیا کے ان تین ملکوں میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا مرض پایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہ Getty

،تصویر کا کیپشنپاکستان دنیا کے ان تین ملکوں میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا مرض پایا جاتا ہے
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ کے قریب شب قدر کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد پولیو مہم کا ایک رضا کار زخمی ہو گیا ہے۔

صوبے کے 20 اضلاع میں پیر کو پولیو کے وائرس کو ختم کرنے کے لیے مہم جاری ہے۔

چارسدہ میں مٹہ روڈ پر انسداد پولیو مہم کے رضاکار بچوں کو اس خطرناک مرض سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے ایک رضاکار زخمی ہو گیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق زخمی رضاکار کو شب قدر ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹروں کے معائنے کے بعد انھیں پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

یہ واقعہ منڈا کے علاقے میں پیش آیا ہے جو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے 20 اضلاع میں پیر کو پولیو کے وائرس کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مہم جاری ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا کے 20 اضلاع میں پیر کو پولیو کے وائرس کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مہم جاری ہے

اس حملے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آج انسداد پولیو مہم کی وجہ سے شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور جگہ جگہ ناکے قائم کیے گئے ہیں۔

چارسدہ میں اس ماہ کے پہلے ہفتے میں ایسے پیمفلٹ شہر کے مختلف مقامات پر چسپاں کیے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ اس پولیو ویکسین میں مضر صحت اجزا شامل ہیں اور بچوں کو یہ قطرے نہ دیے جائیں۔ یہ پیمفلٹ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر ہٹا دیے تھے۔

اس سے پہلے گذشتہ ماہ کی 20 تاریخ کو باجوڑ ایجنسی میں بھی پیمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں پر حملے کر سکتے ہیں۔

کوہاٹ کے علاقے جنگل خیل میں بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن بعد میں متعلقہ حکام نے ان والدین کو راضی کر لیا تھا۔

خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں

خیبر پختونخوا کے 20 اضلاع میں آج انسداد پولیو کے لیے قطرے دیے جا رہے ہیں۔ ان میں سات اضلاع میں مکمل جبکہ 13 اضلاع میں جزوی مہم جاری ہے۔ پشاور میں یہ مہم گذشتہ روز یعنی اتوار کو مکمل کر لی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا سمیت ملک کے کئی علاقوں میں انسداد پولیو ٹیموں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر رضاکاروں، ہیلتھ ورکروں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں جب اساتذہ کو اس مہم کے لیے کہا گیا تھا تو انھوں نے انکار کر دیا تھا۔