انڈے، ٹماٹر برآمد، بدامنی پھیلانے کا منصوبہ فاش

گوجرانوالہ میں اس سے قبل بھی تحریک انصاف کے جلسوں اور جلوسوں میں گڑبڑ کی کوششیں کی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگوجرانوالہ میں اس سے قبل بھی تحریک انصاف کے جلسوں اور جلوسوں میں گڑبڑ کی کوششیں کی گئی ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں انتظامیہ نے اتوار کے روز پاکستان تحریک انصاف کے جلسے کے دوران بدامنی پھیلانے اور قائدین کو انڈے اور ٹماٹر مارنے کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ان افراد کا تعلق صوبے اور مرکز میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے بتایا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ کو ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ شہر کے مرکزی علاقے نوشہرہ روڈ پر کچھ افراد نے ایک خاصی تعداد میں انڈے اور ٹماٹر اکھنے کیے ہیں جو جناح سٹیڈیم میں پاکستان تحریک انصاف کے جسلہ کے دوران عمران خان سمیت پارٹی کے دیگر ارکان پر پھینکے جانے تھے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحویل میں لیے گئے انڈے اور ٹماٹروں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اس کے علاوہ پرانے جوتے بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔

اس اطلاع کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

اس گرفتاری کے بعد حکمراں جماعت کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اُنھوں نے نوشہرہ روڈ سمیت دیگر سڑکیں بھی بند کردی ہیں۔

اس واقعہ کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر جلسے میں بدامنی پھیلائی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی۔

مقامی صحافی اعجاز ملک کے مطابق اگر یہ افراد جلسہ گاہ کے اندر کامیاب ہو بھی جاتے تو پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ قائدین کے لیے بنائے گئے سٹیج اور لوگوں کے درمیان بیٹھنے کی جگہ میں سو فٹ سے زائد کا فاصلہ موجود ہیں اور اس خالی جگہ پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ لاہور سمیت گوجرانوالہ کے قریبی شہروں گجرات، سیالکوٹ اور منڈی بہاوالدین سے بھی پی ٹی آئی کے کارکن ایک حاضی تعداد میں گوجرانوالہ پہنچے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جلسہ گاہ کے اردگرد موبائیل جیمرز بھی لگا دیے گئے ہیں جو جلسے کے اختتام تک لگے رہیں گے۔

مقامی پولیس کے مطابق شہر میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے استقبال کے لیے لگائے گئے سائن بورڈز پر بھی چند نامعلوم افراد نے سیاہی مل دی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم اُن کے خلاف پی ٹی آئی کی طرف سے کارروائی کرنے کے لیے پولیس کو ابھی تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

شہر کی انتظامیہ نے کسی بھی ناخشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پچیس ہزار کے قریب پولیس اہلکاروں کو گوجرانوالہ طلب کیا گیا ہے۔

سٹی پولیس افسر وقاص نذیر کے مطابق سیکیورٹی کے فوول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اُنھوں نے کہا کہ جلسہ گاہ کے علاوہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پولیس کی نفری کو تعینات کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ چودہ اگست کو پاکستان تحریک انصاف نے جب اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کیا تھا تو اُسے گوجرانوالہ پہنچے میں بیس گھنٹے سے زاید کا وقت لگا تھا تاہم اس لابنگ مارچ پر گوجرانوالہ میں پتھراؤ کیا گیا تھا اور مقامی انتظامیہ نے عمران خان کو اپنی حفاظت میں لےکر جلد از جلد شہر کی حدود سے کراس کروایا تھا۔

پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرتے ہوئے پاکستان ملسم لیگ نواز کے رکن صوبائی اسمبلی عمران خالد بٹ کے بھائی کو گرفتار بھی کرلیا تھا جن کی گرفتاری کے اگلے روز ہی ضمانت ہوگئی تھی۔

23 نومبر کے عمران خان کے گوجرانوالہ میں جلسے سے پہلے پی ٹی آئی نے ایک ریلی بھی نکالی تھی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلحہ بھی اُٹھا رکھا تھا۔

واضح رہے کہ گوجرانوالہ کو لاہور کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر میں قومی اسمبلی کی سات اور صوبائی اسمبلی کی 14 سیٹیں ہیں اور تمام سیٹیوں پر سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کامیاب ہوئی ہے۔