تیس نومبرکو اسلام آباد پہنچنے کی کال

عمران خان نے محرم کے بعد تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے محرم کے بعد تحریک تیز کرنے کا اعلان کیا ہے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تیس نومبر کو پورے پاکستان سے عوام کو اسلام آباد پہنچ کر دھرنے میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔

گجرات میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئِے عمران نے کہا کہ نواز شریف استعفی نہیں دیں گے کیونکہ انھوں نے ابھی بڑے بڑے ٹھیکوں کا فیصلہ کرنا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف نے ’میٹرو بس‘ اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں کمیش کھانا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے۔

وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے سوال کیا کہ ’میاں صاحب آپ کون ہیں ہمارے استعفے منظور نہ کرنے والے، آپ جعلی ووٹ کے وزیراعظم بنے ہیں۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ اگر تحریک انصاف کا کوئی بھی رکن پارلیمنٹ میں گیا تو اس کی رکنیت ملتوی کر دی جائے گی۔

عمران خان نے کہا ہے کہ دھرنہ کسی قیمت پر ختم نہیں ہو گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے کہا ہے کہ دھرنہ کسی قیمت پر ختم نہیں ہو گا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان کا حصہ نہیں بنے گی۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو وزیراعظم کا پرائیویٹ سیکرٹری قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں کے نام اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ’اگر آپ کا خیال ہے کہ میں دھرنا ختم کر دوں گا تو کسی خوش فہمی میں نہ رہنا۔‘

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اگر لوگ تھک گئے اور روشنی اور ساؤنڈ سسٹم کے لیے فنڈ نہ ہوا تب بھی وہ یہیں رہیں گے۔

اپنے خطاب میں عمران خان نے بتایا کہ دھرنے کا خرچہ اتنا زیادہ نہیں ہے لیکن اگر پیسہ آتا رہا تو یہ تحریک پورے پاکستان میں پھیلے گی۔

’ دس روپے دیں بیس روپے دیں سو روپے دیں دھرنا آپ نے چلانا ہے۔‘

عمران خان نے مولانا فضل الرحمن پر کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم انھوں نے پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان پر کی گئی تنقید پر دوبارہ شکوہ کیا۔

ہم اقبال کی بات کرتے ہیں ہم اسلام کی بات کرتے ہیں، مولانا صاحب جن لوگوں کو آپ کی منافقت نے اسلام سے دور کیا ہے انھیں واپس لانا ہے۔‘

عمران خان نے 30 نومبر کو پاکستانیوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت بھی کی ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ابھی مستعفی نہیں ہونا چاہتے ۔

پرامن احتجاج کے لیے پاکستانی قوم تیار رہے، محرم کے بعد ہر ہفتے سارے پنجاب میں دو دو دھرنے کریں گے۔‘