’آپ کی مرضی کے بغیر نہ سندھ تقسیم، نہ کالا باغ ڈیم‘

لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کے جلسے میں 40 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنلاڑکانہ میں پی ٹی آئی کے جلسے میں 40 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام تھا

پاکستان کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں جلسے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک سندھ کی عوام فیصلہ نہیں کریں گے تب تک کالا باغ ڈیم نہیں بنےگا۔

پاکستان تحریک انصاف جمعہ کو پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں قوت کا مظاہرہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھی عوام مطمئن ہو جائے کیونکہ ان کی اجازت کے بغیر سندھ میں کسی قسم کا پانی ذخیرہ کرنے کا منصوبہ نہیں بنے گا۔

انھوں نے مزید کہا ’سندھ کی عوام سے میرا وعدہ ہے کہ سندھ کو ہم تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔‘

لاڑکانہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار صبا اعتزاز کے مطابق عمران خان کا لاڑکانہ پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

’جلسہ گاہ کا علاقہ 14 ایکڑ پر محیط ہے جہاں پی ٹی آئی انتظامیہ نے تقریباً 40 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں لگائی گیئں۔‘

نامہ نگار کے مطابق سرکاری طور پر جلسے کے شرکا کی تعداد نہیں بتائی گئی تاہم یہ تعداد ہزاروں میں معلوم ہوتی ہے۔

کارکنان سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’گو نواز گو‘ کا مطلب ’گو زرداری گو‘ بھی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی گو زرداری گو کا نعرہ لاڑکانہ نہیں پہنچا۔انھوں نے اپنے مخصوص پراعتماد انداز میں کہا: ’ایک ہی گیند میں دونوں وکٹیں اڑاؤں گا۔‘

عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں اگلا سال الیکشن کا سال نظر آ رہا ہے اور پاکستان کے نوجوان نیا پاکستان بنانے لیے تیار ہیں۔

اپنے خطاب میں عمران خان نے بلدیاتی انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے سندھ میں تعلیم، صحت اور پولیس کے نظام اور انصاف کی سہولیات پر شدید تنقید کی۔

’جب تک نظام نہیں بدلیں گے اور حکمران طاقت نیچے کی جانب نہیں منتقل کریں گے نظام نہیں بدلےگا، گو نواز گو کا مطلب زرداری اور نواز شریف دونوں کے نظام کو مسترد کرنا ہے۔‘

انھوں نے آصف علی زرداری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انھوں نے اپنے عزیز و اقارب کو عہدے دیے ہیں۔

عمران خان نے اپنے خطبے میں اعلان کیا کہ اب گو نواز گو کے علاوہ گو زرداری گو کے نعرے بھی لگائے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ شرمندہ ہیں کہ سندھ میں موجود ہندو برادری ملک چھوڑ کر جا رہی ہے۔

عمران خان نے تقریر میں ایک بار پھر بالواسطہ طور پر وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

’اگلا سال الیکشن کا سال نظر آرہا ہے، پاکستان کے نوجوان نیا پاکستان بنانے کے لیے تیار ہیں، نئے پاکستان میں وزیراعظم آپ سے سچ بولےگا جھوٹ نہیں بولےگا، جو کر سکے گا وہ کہہ دے گا کہ کروں گا اور جو نہیں کر سکے گا میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا کہ میں نہیں کر سکتا۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے عوام سے بہترین بلدیاتی نظام لانے کا وعدہ کیا۔

عمران خان نے 30 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنے کے مقام پر بڑے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں نے حکومت کے نام پیغام میں کہا کہ جلسہ پر امن اور جمہوری ہوگا حکومت پولیس کا غلط استعمال نہ کرے۔

پی ٹی آئی کے جلسے میں عمران خان سمیت تمام رہنماؤں نے کوئی نئی بات تو نہیں کی تاہم جلسے میں موسیقی کا چناؤ سندھ کی ثقافت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔