مشرف غداری کیس میں نامزد ہونے پر وفاقی وزیر مستعفی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں نامزد ہونے کے بعد وفاقی وزیر زاہد حامد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ابھی وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی زاہد حامد کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ غداری کیس سے متعلق خصوصی عدالت کا فیصلہ متفقہ نہیں بلکہ اکثریتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت فیصلے کے تفصیلی مطالعے اور قانونی مشاورت کے بعد اپنا موقف دے گی۔
مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے پر زاہد حامد کو قانون و انصاف اور حقوقِ انسانی کا قلمدان سونپا گیا تھا تاہم بعد میں ان کی وزارتِ تبدیل کر دی گئی تھی۔
اس سے پہلے جمعے کو سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق اس وقت کی وفاقی حکومت اور اعلیٰ عسکری اور سول قیادت کو شریک جرم کرنے سے متعلق درخواست کو جزوی طور پر منظور کر لیا ہے۔
خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اپنے فیصلے میں اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی مقدمے میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔



