’پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا‘
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
خارجہ امور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ رابطہ نہیں کرے گا، اگر بھارت کو پاکستان سے بات کرنی ہے تو اسے پہل کرنا ہو گی۔
معاون خصوصی نے یہ بات بدھ کو بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹریو میں کہی۔
ان کا کہنا تھا: ’وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں سے یہ مذاکرات بحال ہونے جا رہے تھے جنھیں بھارت نے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب انھیں دوبارہ کرنے کے لیے بھی پیش قدمی بھارت ہی کو کرنا ہوگی۔ ہم اس سلسلے میں اب بھارت سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے۔‘
ایک سوال کے جواب میں طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحدوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کا براہِ راست تعلق بھارت میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے ہے۔
’یہ اب سامنے کی بات نظر آتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ پاکستانی سیاسی جماعتیں اس معاملے میں بھارت سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ ہمارے ملک میں اب بھارت انتخابی موضوع نہیں رہا لیکن بھارت ابھی تک اس سوچ سے نہیں نکل سکا ہے۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت میں ریاستی انتخابات کے بعد زیادہ سوجھ بوجھ سے کام لیا جائے گا:
’ہم دیکھ رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد بھارت میں کیا صورتِ حال ہوتی ہے لیکن مذاکرات کی بحالی اب بھارت کی ذمہ داری ہے۔ گیند اب نریندر مودی کے کورٹ میں ہے۔ انھیں ہی پہل کرنا ہو گی۔‘
طارق فاطمی کا کہنا تھا ’وزیرِ اعظم نواز شریف چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں لیکن اس کے لیے پاکستان کی حاکمیت، خود مختاری اور علاقائی وقار کی قربانی نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کسی ملک کا غلبہ برداشت نہیں کرےگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے اس سخت لب و لہجے سے تو نہیں لگتا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات مستقبل قریب میں بہتر ہونے کی امید ہے، تو خارجہ امور کے وزیر مملکت نے کہا کہ یہ تاثر درست ہے:
’ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر آئیں لیکن اس وقت بدقسمتی سے یہ تعلقات بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور ان میں فوری بہتری مشکل دکھائی دیتی ہے۔‘
طارق فاطمی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ہمیشہ سے مرکزی نکتہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ البتہ انھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کشمیر پالیسی میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تھی، جسے ہم تسلیم نہیں کرتے:

،تصویر کا ذریعہGetty
’جنرل پرویز مشرف تو اپنے کور کمانڈر سے بھی مشاورت کیے بغیر کشمیر پر تجاویز بھارت کو دے آئے تھے۔ ہم منتخب حکومت کے طور پر عوامی خواہشات کے پیش نظر صرف وہی پالیسی اختیار کریں گے جو عوام کی خواہش ہو گی۔ کشمیر پر جو کچھ جنرل مشرف چاہتے تھے، وہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔‘
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ پاکستان، بھارت اور بین الاقوامی برادری نے کشمیریوں کے ساتھ ایک عہد کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عالمی طاقتوں اور عالمی برادری کو بتایا کہ کشمیر میں کس طرح سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر ہونے والے کشیدگی کے بارے میں طارق فاطمی کا کہنا تھا پاکستانی فوج کی جانب سے صرف جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی جانب سے انھیں تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کی جانب سے کبھی پہل نہیں کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے شہری علاقوں میں بمباری کی گئی جبکہ پاکستانی فوج کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ جوابی کارروائی میں بھی شہری علاقوں کو قطعی نشانہ نہ بنایا جائے۔







