کشمیر بس سروس:’چھوٹا سا آسرا‘

- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، لائن آف کنٹرول، کشمیر
مظفرآباد میں بھارت جانے والی بس کے ٹرمینل پر سرینگر جانے والی بس روانگی کے لیے تیار ہے۔ صبح سویرے ایک بزرگ بڑا سا بیگ ہاتھ میں تھامے داخل ہوئے۔ باریش چہرہ ہلکے بادامی رنگ کی شلوار قمیض کندھے پر رومال اور سر پر نماز پڑھنے والی ٹوپی۔
یہ 73 سالہ نور حسین ہیں جن کا آبائی وطن بارہ مولہ ہے لیکن وہ 55 برس پہلے جب بھارت کے شہر پٹنہ میں زیرتعلیم تھے تو پاکستان کی محبت میں اپنا خاندان چھوڑ چھاڑ کر یہاں آن بسے۔
ابھی تو خوشی نور حسین کے چہرے سے چھلک رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ’ ہم جارہے ہیں اپنے وطن بارہ مولہ ایک بھائی وہاں رہتا ہے اور چھ سرینگر میں۔‘
جب نور حسین پاکستان آئے تو انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ تقریباً نصف صدی میں صرف دوبار ہی اپنے خاندان سے مل سکیں گے وہ بھی اس بس سروس کی بدولت۔
’یہ بس چھوٹا سا آسرا ہے اور کشمیریوں کے ملنے کا واحد ذریعہ۔ہم تو کہتے ہیں کہ کتنی بھی تلخی کیوں نہ ہوجائے اس بس سروس کو بند نہیں ہوناچاہیے۔

نور حسین کی طرح بہت سے کشمیریوں کی یہی خواہش ہے لیکن حالیہ کشیدگی نے بے یقینی کی فضا پیدا کردی ہے۔ عام طور پر اس بس میں 60 کے قریب مسافر سفر کرتے ہیں لیکن آج ان کی تعداد 20 ہے۔
بس مظفرآباد کے ٹرمینل سے چکوٹھی کی سرحدی چوکی پر پہنچتی ہے جہاں مسافروں کے کاغذات دیکھے جاتے ہیں اور سامان کی چیکنگ کی جاتی ہے۔ جس کے بعد بس بھارت کی جانب روانہ ہوجاتی ہے۔
ہفتہ وار بس کے علاوہ چکوٹھی اور تیتری نوٹ کے مقامات سے ہفتے میں چار روز پاکستان اور بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے درمیان مال کے بدلے مال کی تجارت بھی ہوتی ہے۔ جو کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود ابھی تک جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خشک میوے، جڑی بوٹیاں، کشمیری قالین اور کپڑے سے لدے ٹرکوں کو بھارت بھیجنے سے پہلے تمام سامان کو نکال کر اور بوریوں کو کھول کر اس کی چیکنگ کی جاتی ہے۔ تاکہ کوئی ممنوعہ اشیا وہاں نہ جاسکیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ سمجھوتے کے مطابق اس راستے سے 21 اشیا کی تجارت کی جاسکتی ہے۔ اس تجارت پر کوئی ٹیکس نہیں اور تاجروں سے لے کرٹرک ڈرائیوروں تک ہر کسی کا کشمیری ہونا ضروری ہے۔
شبیر احمد سنہ 2008 سے خشک میوہ اور کپڑا سرینگر بھجوا رہے ہیں۔ وہ اس مرتبہ مال سرحد پار بھیجتے ہوئے پریشان ہیں۔
’کشمیر کی پوری معیشت اسی تجارت پر چلتی ہے۔ مزدور ہیں ڈرائیور ہیں تاجر ہیں۔ سب ہی لوگوں کا روزگار اس سے جڑا ہے۔ لیکن اس بار یہ تجارت بند ہوئی تو ہمارا سارا پیسہ برباد ہوجائے گا۔ اور ہم دوبارہ کاروبار نہیں کرسکیں گے۔‘
شبیر احمد کی پریشانی کی وجہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ سرحدی کشیدگی ہے۔ جس میں اب تک لگ بھگ 20 افراد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ دنوں ملکوں کے درمیان ہونے والی سیاسی تناو کے سائے سب سے پہلے کشمیر کی اس متنازعہ سرحدی لکیر یعنی لائن آف کنٹرول پر ہی لہراتے ہیں۔
چکوٹھی کی چوکی سے میلوں دور نکیال سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر ایک اور ہی منظر ہے۔ شام ڈھلے گاوں ڈبسی ناڑ کی رہائشی ذہین اختر اپنے صحن میں کھانے پکانے میں مصروف ہیں۔ یہ گاؤں بھارتی سرحد سے محض چند سو میڑ کے فاصلے پر ہے۔ کچھ روز پہلے وہ اسی طرح اپنے بچوں کو کھانا کھلا رہی تھیں کہ بھارتی گولہ باری شروع ہو گئی ۔جس میں ان کے چار بچے زخمی ہوئے۔ جن میں تین سالہ سمیر بھی شامل ہے۔ اس علاقے سے کئی خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں لیکن ذہین جیسے لوگوں کا کوئی اور ٹھکانہ نہیں۔

’ہم کہاں جائیں۔ ہماری زمینیں یہاں ہیں۔گھر یہاں ہیں۔ ہم خوفزدہ ہیں۔ذرا سی آواز آتی ہے تو ہم سہم جاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو اکٹھا کرکے اندر لے جاتے ہیں۔ نہ پانی لاسکتے ہیں۔ نہ فصلیں کاٹ سکتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو سکول بھیج سکتے ہیں۔ دشمن سامنے ہے۔ وہ جب دل کرتا ہے فائر کھول دیتا ہے۔‘
شاید ایسی ہی صورتحال سرحد کی دوسری جانب بھی ہے۔ جہاں لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے گولہ باری کی زد میں ہیں۔ دونوں حکومتوں نے ابھی تک بس سروس اور تجارت جیسے اعتماد سازی کے اقدامات کو جاری رکھ کر سمجھداری دکھائی ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ علاقے میں پائیدار امن کا قیام ابھی بھی ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ملتی دکھائی نہیں دیتی۔







