سندھ میں پہلی بار دیوالی کی سرکاری تقریب

’بینظیر بھٹو نے بھی ایک بار کراچی میں دیوالی منائی تھی تاہم سرکاری طور پر یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت دیوالی منا رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’بینظیر بھٹو نے بھی ایک بار کراچی میں دیوالی منائی تھی تاہم سرکاری طور پر یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت دیوالی منا رہی ہے‘

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی منا رہی ہے، اور یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت سندھ نے سرکاری طور پر یہ تہوار کو منانے کا اعلان کیا ہے۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے بی بی سی کو بتایا کہ جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ شب لاڑکانہ میں ہندو برادری کے ساڑھے چار ہزار افراد کے ہمراہ دیوالی کی تقریب میں شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ آج دیوالی کے موقع پر بھی بلاول بھٹو مندر میں سب کے ساتھ خوشیوں میں شریک تھے۔

’بینظیر بھٹو نے بھی ایک بار کراچی میں دیوالی منائی تھی تاہم سرکاری طور پر یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت دیوالی منا رہی ہے۔‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے دیوالی کے موقعے پر اپنے پیغام میں ہندو برادری کو مبارکباد دی اور اپنی تصاویر پوسٹ کیں۔

مسلم لیگ کے ایم این اے بھون داس نے اپنے پیغام میں سب کو دیوالی کی مبارکباد دی اور حکومت سندھ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انھوں نے کہا: ’سندھ حکومت نے یہ مثبت فیصلہ کیا اور اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

پاکستانی پارلیمان کے ایک اور رہنما ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے اہم تہوار دیوالی کو قومی تعطیل قرار دیے جانے کا مطالبہ قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس اعلان سے دنیا میں پاکستان کی شبیہ بہتر ہوگی اور اس کے علاوہ یہ اقلیتی برادری کے بنیادی حقوق میں بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار برسراقتدار پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان ہندو کونسل کے سینیئر رکن ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ حکومتیں ہندوؤں کو سالانہ بونس دیا کرتی تھیں لیکن اس حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں دیگر اقلتیتوں کی طرح ہندو برادری کے بھی لاکھوں افراد موجود ہیں۔ تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے ہندو برادری کی بڑی تعداد بھارت اور دیگر ممالک منتقل ہوئی ہے۔

اس کی بڑی وجہ اس اقلیت کو درپیش عدم تحفظ اور معتصبانہ رویہ قرار دی جاتی ہے۔