’بھارت پر پاکستان سے مذاکرات کرنے کے لیے زور دیا جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے سفیروں سے کہا ہے کہ وہ بھارت پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے اور پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے کے لیے زوردیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سرتاج عزیز نے یہ بات اسلام آباد میں پیر کواقوامِ متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک یا پی فائیو کے سفیروں کو کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر موجودہ صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
اس بریفنگ میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھی شرکت کی۔
دریں اثنا پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان منگل کو ہاٹ لائن پر رابطہ بھی ہوا ہے۔ پاکستان کی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی نے ملک کے عسکری حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ ڈی جی ایم اوز کے درمیان یہ ہفتہ وار معمول کا ربطہ تھا۔
حکام کے مطابق پاکستان نے کے ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ رابطے میں ایل او سی پر ’بلا اشعال‘ فائرنگ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور انھیں شہری آبادی پر ہونے والی گولہ باری سے آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ پاکستانی اور بھارتی افواج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر حالیہ دنوں میں فائرنگ اور گولہ باری سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو افراد کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ 11 پاکستانی ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی مشیرِ خارجہ نے بریفنگ کے دوران وزیرِ اعظم نواز شریف کا مئی سنہ 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی طرف مثبت رویہ اختیار کرنے اور پرامن جنوبی ایشیا کے تصور کا ذکر کیا۔
سرتاج عزیز نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اگست میں سیکریٹری سطح پر ہونے والے مذاکرات کو منسوخ کر دیا گیا اور پھر اس کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ کی جس سے عام شہری ہلاک ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے الزام لگایا کہ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے اور بھارتی رہنماؤں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سے نہ صرف امن کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ یہ پاکستان کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ آپریشن ضربِ عضب سے توجہ ہٹنے کا باعث بھی بنتا ہے۔
علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے سرتاج کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھا گیا خط بھی پہنچا دیا ہے جس میں ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

یہ خط سکیورٹی کونسل کی صدر ماریہ کریسٹینا پارسیوال کو بھی ترسیل کیا گیا ہے۔
ادھر وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے مسائل صرف مذاکرات سے حل کرسکتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پیر کے روزاسلام آباد میں امریکی کانگریس کے ارکان ٹم کین اور اینگس کنگ سے ملاقات میں اُنھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔
وزیرِ اعظم نے اقوام متحدہ پر بھی زوردیا کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیاجانا چاہیے۔







