’مشرف پیش نہیں ہوئے تو وارنٹِ گرفتاری جاری ہونگے‘

عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ملزم کی ضمانت ضبط کرکے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں گے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ملزم کی ضمانت ضبط کرکے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں گے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی عدالت میں حاضری سے متعلق استشنیٰ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو آٹھ نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ملزم کی ضمانت ضبط کرکے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف قتل کے اس مقدمے میں ان دنوں ضمانت پر ہیں

اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج واجد علی نے قتل کے اس مقدمے کی سماعت کی تو پرویز مشرف کے وکیل اختر علی نے عدالت میں اپنے موکل کی صحت سے متعلق ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیا جس میں ڈاکٹروں نے ملزم پرویز مشرف کی کمر کی تکلیف میں مبتلا ہونے ہر اُنھیں ایک ماہ کے لیے آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس میڈیکل سرٹیفکیٹ پر مقتول کے وکلاء نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض کمر کی تکلیف کی وجہ سے ملزم کو حاضری سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔

ملزم پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کو سکیورٹی کے خدشات ہیں جبکہ جس جگہ پر یہ عدالت واقع ہے وہاں پر بھی دہشت گردوں کے حملے ہوچکے ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل نے سکیورٹی کے حوالے سے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو لکھا جانے والا خط بھی دکھایا جس کا مطالعہ کرنے کے بعد جج کا کہنا تھا کہ اس خط میں تو یہ کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ عدالت کو بتائیں کہ سکیورٹی کے کیا خدشات ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس خط میں پولیس سے ملزم کی سکیورٹی نہیں مانگی گئی۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی بھی اپنے موکل کو صدر سمجھتے ہیں جنہیں سکیورٹی پر بریفنگ چاہیے۔

دوسری طرف خصوصی عدالت نے سابق فوجی پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کی۔

پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے خط میں صرف پرویز مشرف کے خلاف کاروائی کا حکم دیا تھا جوکہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سابق فوجی صدر کے تین نومبر سنہ 2007 کے اقدامات کی توثیق کی اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔

پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت 15 اکتوبر کو بھی جاری رہے گی۔