نوازشریف کا دورہ میران شاہ: ’یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے جمعرات کے روز قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ کا دورہ کیا اور وہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق شدت پسندی سے متاثرہ قبائلی علاقوں کا گذشتہ کئی برسوں میں پاکستانی سول قیادت کا یہ پہلا دورہ ہے جبکہ نواز شریف شمالی وزیرستان میں قدم رکھنے والے پہلے پاکستانی وزیر اعظم ہیں۔
سرکاری میڈیا کے جمعرات کے روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ پہنچنے پر بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور قبائلی علاقوں کے لیے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
میران شاہ میں پاکستانی فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ظفراللہ نے وزیراعظم نواز شریف کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ اس آپریشن میں اب تک ایک ہزار سے زائد شدت پسند اور ایک سو کے قریب پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
میجر جنرل ظفر اللہ نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں قائم شدت پسندوں کے کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے، اور شدت پسند اس علاقے سے نکالے جانے کے بعد فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔
بریفنگ کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو میران شاہ شہر میں شدت پسندوں کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دورہ کروایا جس کے بعد وزیراعظم جوانوں اور افسروں سے خطاب میں کہا کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان ایک پرامن ملک بن جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب میں دشمن سامنے سے نہیں بلکہ چھپ کر وار کرتا ہے۔







