وزیرستان: شوال میں بمباری،’غیرملکیوں سمیت 15 ہلاک‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں جیٹ طیاروں کی بمباری میں 15 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں جنگی طیاروں نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب میں کارروائی کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شوال کے علاقے میں بمباری میں 15 شدت پسندوں اور پانچ ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں 12 جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے آغاز پر کارروائی میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تقریباً تواتر سے میڈیا کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں 12 جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں 12 جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا

گذشتہ کچھ عرصے سے فوجی آپریشن کے بارے میں سرکاری معلومات کی فراہمی میں کمی آئی لیکن اب ایک بار پھر شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات جاری کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اب تک اس آپریشن میں ایک ہزار سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فورسز نے کیا اہداف حاصل کیے اس بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکتی کیونکہ علاقے تک آزاد میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رسائی حاصل نہیں۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک صرف ایک بار ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو میر علی کا دورہ کروایا گیا تھا۔

سرکاری حکام کے مطابق آپریشن کے اعلان کے بعد شمالی وزیرستان سے کل 53 ہزار 186 خاندانوں نے نقل مکانی کی جو اب کیمپوں، کرائے کے گھروں یا پھر اپنے عزیز و اقارب کے ہاں مقیم ہیں۔