ریٹرننگ افسران کے خلاف شکایات کا ریکارڈ طلب

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لینے کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ریٹرننگ افسران کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ملک میں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدارت میں منعقد ہوا۔
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کا کہنا تھا کہ جس رپورٹ کو بنیاد بنا کر الزامات لگائے گئے وہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ نہیں بلکہ سفارشات ہیں جو مستقبل میں انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے اور نظام کی بہتری کے لیے دی گئی ہیں۔
اشتیاق احمد کا کہنا تھا الیکشن کمیشن کے پاس ریٹرننگ افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے اور اگر کسی ریٹرننگ افسر کے خلاف شکایت ہو تو متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
تین سال قبل بھارتی انتخابی کمیشن طرز پر انتظامی اختیارات مانگے تھے اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا۔کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے 26 ہزار امیدواروں کی سات روز میں جانچ پڑتال ممکن نہیں ہے۔اس لیے جانچ پڑتال کے لیے 15 روز کرنے کی تجویز دی ہے۔
گذشتہ انتخابات میں ہر انتخابی حلقے کے تمام پولینگ سٹشنوں پر فوج کی نگرانی میں بیلٹ پیپر پہنچائے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے لیے دن دینے جاتے ہیں جوناکافی ہیں اس کو اگر 21 کی بجائے 30 روز دیے جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اشتیاق احمد نے بتایا کہ ریٹرننگ افسران فارم 14 اور 15 الیکشن کمیشن کو نہیں بھجواتے۔ قانون کے تحت الیکشن کمیشن فارم 14 ویب سائٹ پر جاری کرنے کا پابند نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ غیراستعمال شدہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی میٹریل ضلعی مال خانوں میں جمع ہے جو محفوظ ترین جگہ ہے۔ انھوں نے تصدیق کی لاہور کے سکول میں جلنے والا میٹریل بلدیاتی انتخابات کا تھا ۔
اجلاس کے دوران سینٹ میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر اعتزاز احسن نے بتایا کہ انہوں نےسال 2013 میں عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق وائیٹ پیپر تیار کر لیا ہے جو اسلام آباد میں دھرنوں کے باعث تاحال جاری نہیں ہو سکا۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے ان تمام ریٹرننگ افسران کی تفصیلات اور ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ جن کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے دھاندلی کے شکایات کیے ہیں۔







