زہرا شاہد کا قتل ٹارگٹ کلنگ تھا: پولیس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں تحریک انصاف کی رہنما زہرا شاہد کے قتل کیس میں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے اور دوران تفتیش معلوم ہوا ہے کہ واقعہ ڈکیتی کا نہیں بلکہ سیاسی ٹارگٹ کلنگ کا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ زہرا شاہد کے قتل میں ملوث ایک ملزم گرفتار ہوا ہے جس کی پیدائش حیدرآباد کی ہے لیکن بعد میں اس کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا تھا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی رہنما زہرا شاہد کو گذشتہ سال مئی میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ان کے مکان کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کے قتل پر تحریک انصاف کی جانب سے کئی روز تک احتجاج جاری رہا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ ڈکیتی یا لوٹ مار کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ تھی۔
غلام قادر تھیبو نے ملزم کا نام اور سیاسی وابستگی ظاہر نہیں کی اور صرف اتنا کہا کہ پولیس کی کارروائیاں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہیں، کسی سیاسی جماعت یا گروہ کے خلاف نہیں۔
اس موقعے پر ڈی آئی جی عبدالخالق شیخ کا کہنا تھا کہ ملزم سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے جس کا فورینسک لیبارٹری سے کیمیائی تجزیہ کرایا جائے گا۔
یاد رہے کہ پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول ملے تھے۔
ڈی آئی جی عبدالخالق کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس اس وقت خاصی مفید معلومات موجود ہیں جس کی مدد سے اس جرم میں شریک تمام ملزمان کا سراغ لگ چکا ہے جنھیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملزمان کے نام اور اس جرم کے پیچھے چھپے مقاصد کو ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے تفتیش پر اثر پڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے شہر میں دیگر ہائی پروفائل ہلاکتوں کی تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شکیل، علامہ عباس کمیلی کے فرزند علامہ علی اکبر کمیلی اور مولانا مسعود کے قتل میں بریک تھرو ہوا ہے۔







