آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات

،تصویر کا ذریعہpid
پاکستان کی فوج میں اہم تبدیلیوں اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی قیادت کے تبدیل ہونے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے امریکہ روانہ ہونے سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان پیر کو ملاقات ہوئی ہے۔
سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان آپریشن ضرب عضب اور متاثرین شمالی وزیرستان کےحوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں جنرل راحیل شریف نے میاں نواز شریف کو ملک سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی بھی زیرغور آئی۔
نواز شریف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے لیے فوج کی خدمات کو سراہا۔
آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں سرحد پار افغانستان میں نئی حکومت کی صورت میں آنے والی سیاسی تبدیلی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف ایک روز بعد امریکہ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ 26 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اہم خطاب کریں گے۔
دوسری جانب آپریشن ضرب عضب میں مزید 23 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ٹی وی نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے حوالے سے خبر نشر کی ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں تازہ ترین کارروائی میں شمالی وزیرستان کے علاقے بانگی ڈار اور غلام خان میں شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 23 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز 15 جون کو ہوا تھا۔







