سپریم کورٹ بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے بھی سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے بھی سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ نے ممکنہ ماروائے آئین اقدام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے وکلا سے کہا ہے کہ وہ بتائیں کہ سپریم کورٹ حالیہ بحران کے حل کے لیے کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئین اور ملکی سلامتی خطرے میں ہے اور عدالت اس ضمن میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ سپریم کورٹ نے اس مسئلے کے حل کے لیے دونوں جماعتوں کے وکلا سے تجاویز مانگی ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ وہ ایک گھنٹے میں دونوں جماعتوں کے قائدین سے تجاویز لے کر عدالت کو بتائیں۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ممکنہ ماروائے آئین اقدام سے متعلق سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ اُن کی جماعت اور حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے جس کی وجہ سے معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے بھی سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں کے کارکن پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کا جنگلہ توڑ کر پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہوئے اور پھر اس کے بعد وہ سرکاری ٹی وی کی عمارت میں گھس گئے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ دونوں عمارتیں کسی حکومت کی نہیں بلکہ ریاست کی عمارتیں ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دونوں جماعتوں کو دیے جانے والے اجازت نامے کی کاپی بھی پیش کی گئی۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس میں تو ریڈ زون میں جانے کی اجازت دینے کا ذکر تو نہیں ہے، جس پر تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنھیں بعد میں ریڈزون میں جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا کوئی اجازت نامہ ہے تو وہ عدالت میں پیش کیا جائے، تاہم تحریک انصاف کے وکیل ایسا کوئی بھی اجازت نامہ عدالت میں پیش نہ کر سکے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ کیا اُنھیں پارلیمنٹ ہاؤس اور پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت میں داخل ہونے کی بھی اجازت دی گئی تھی؟

احمد اویس نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخل ہونے والے مظاہرین پی ٹی آئی کے کارکن نہیں ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھاکہ ان جماعتوں کے قائدین عدالت میں یہ لکھ کر دیتے ہیں کہ وہ آئین اور قانون کی پاسداری کریں گے جبکہ عملی طور پر وہ قانون کو پاؤں تلے روندتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو دہرے معیار کو ترک کرنا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بھی آئین کی عمل داری کو یقینی بنانے کے لیے جنگ کی کی جا رہی ہے جبکہ اسلام آباد کے شاہراہ دستور پر بھی قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔