جب پی ٹی وی خود خبر بنا

،تصویر کا ذریعہ

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقے میں واقع سرکاری ٹیلی ویژن کے دفاتر پر عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے مختصر قبضے نے ان کے مقاصد اور رویہ کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ پندرہ سال قبل اسی جگہ کو فتح کرنے والی فوج نے سوموار کو اسے سیاسی قابضوں سے خالی کروا لیا۔

دن کے آغاز سے مظاہرین اور پولیس میں جو تصادم کا نیا سلسلہ شروع ہوا اس کی وجہ صرف بارش نہیں تھی۔ اس جھڑپ کی ابتدا کی وجہ کوئی بھی ہو بعد میں لاٹھیوں سے مسلح سینکڑوں کارکن کسی بڑی فتح کی تلاش میں جیسے نکل پڑے۔ پہلے پاکستان سیکریٹرٹ کا رخ کیا، صدر دروازہ توڑا اور وزیر اعظم ہاؤس کے گیٹ تک جا پہنچے۔ وہاں فوج نے موجودگی کی اطلاع دی تو سڑک پار سرکاری ٹی وی کے ہیڈکوارٹر کا رخ کر لیا۔

ٹی وی اہلکاروں کے مطابق گیٹ پر دو پولیس والوں نے جب کیلوں اور کانٹے دار تاروں سے سجے ڈنڈے دیکھے تو بغیر کسی مزاحمت کے دروازے کھول یئے۔ پھر کیا تھا کسی نے کیفٹیریا کا رخ کر کہ وہاں جو ملا تمام کیا اور کسی نے کمروں کا اور جو کچھ سامنے آیا توڑ دیا یا پھر ساتھ لے گئے۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق بڑی تعداد میں مظاہرین نے پی ٹی وی کے بیت الخلاء کی سہولت بھی استعمال کی۔

سینتالیس سالہ پی ٹی وی کے اس دوران اناونسر نے لائیو نشریات میں اسلام آباد کے پولیس سربراہ خالد خٹک سے بھی چیخ چیخ کر مدد کی اپیل کی۔ ’آئی جی صاحب آپ کو آگاہ کردیں کے مظاہرین نے پی ٹی وی میں داخل ہو کر اسے ہائی جیک کر لیا ہے اور یہ نشریات کسی بھی وقت بند ہوسکتی ہیں۔‘

ہوا یہی پہلے ملک کے انگریزی زبان کے اکلوتے چینل پی ٹی وی ورلڈ کی نشریات بند ہوئیں اور چند منٹ بعد اردو زبان کا پی ٹی وی نیوز بھی ٹی وی سکرینز سے غائب ہوگیا۔ مظاہرین نے خواتین عملے کو بھی نہیں چھوڑا۔ پی ٹی وی ایک نیوز اینکر عظمیٰ چوہدری نے بعد میں تقریبا روتے ہوئے بتایا کہ وہ جب میریئیٹ کی جانب سے پی ٹی وی پہنچیں تو ڈنڈا برداروں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے ان کا پرس چھین لیا۔ ’انہوں نے پیسے بھی نکال لیے۔ یہ چوری، دہشت گردی بلکہ غنذہ گردی تھی۔ موبائل میرے ہاتھ میں تھا اس لیے بچ گیا۔ یہ عوامی تحریک اور تحریک انصاف دونوں کے لوگ تھے۔ اور ان کو چونکہ لگتا ہے کہ ہم ان کے خلاف بولتے ہیں ان کے پاس اچھا موقعہ ہے بدلہ لینے کے لیے۔‘

پی ٹی وی کے ہی ایک اہلکار حمید جب بی بی سی کو حملے کی تفصیل بتا رہے تھے کہ پی ٹی وی تو ریاستی ادارہ ہے ریاست کے لیے کام کرتا ہے تو ایک احتجاجی نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ ’یہ جو ریاست کے غریب لوگ آئے ہوئے ہیں۔ آپ تو نواز شریف اور شھباز شریف قاتلوں کے حمایتی ہیں۔‘

اس دوران پہلے رینجرز اور بعد میں فوجی بھی بڑی تعداد میں آگئے۔ انہیں بعض مظاہرین نے گلے بھی لگایا اور چوما بھی۔ کئی نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ ایک فوجی اہلکار نے میگا فون پر مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ غلط جگہ آگئے ہیں۔ آپ نے باہر کھڑے ہوکر اور آپ کے قائدین نے بھی اعلان کیا کہ آپ پرامن رہیں گے۔ جب آپ ایسی جگہ پر آئیں گے تو آپ کے لیے بھی سرمندگی ہے آپ کے قائدین کے لیے بھی۔‘ اس کے بعد کسی مظاہرہ کرنے والے نے کچھ نہ کہا اور خاموشی سے وہاں سے چلے گئے۔

بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کی شام فوج کی ٹرپل ون برگیڈ نے اسی پی ٹی وے کے مرکزی دروازے کو پھلانگ کر میڈیا کو ایک تاریخی تصویر دی۔ اس وقت بھی وزیر اعظم نواز شریف تھے اور آج بھی ہیں۔ لیکن آج ٹرپل ون برگیڈ کی جگہ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے لوگوں نے لے لی۔ تقریبا پینتیس منٹ تک معطل رہنے کے بعد نشریات بلآخر بحال ہوئیں تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہ آئی۔

معروف قانونی ماہر عاصمہ جہانگیر کو کسی گرفتاری کے نہ ہونے پر شدید تشویش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اتوار کی رات فوج نے طاقت کے استعمال سے حکومت کو منع کیا تو انہوں نے ایک طرح سے ان کو دعوت دی کہ وہ جو چاہے کریں۔ ’کسی گرفتاری کا نہ ہونا بھی حیرت کی بات ہے۔ یہ سرا سر غنڈہ گردی ہے اور جو دو ان کے چیف غنڈے ہیں عمران خان صاحب اور طاہر القادری صاحب فوج کو خود انہیں گرفتار کرنا چاہیے تھا۔‘

پی ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز اطہر فاروق بٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمارت میں داخل ہونے والے مظاہرین تربیت یافتہ اور اس کام کے لیے موزوں اوزار سے لیس تھے۔ ’ان کی جو نیت تھی وہ تو ظاہر تھی کہ ریاستی نشریاتی ادارے کو بند کرنا ہے۔ ہمارے آٹھ چینل ہیں اور صدر دفتر بھی یہیں ہے۔ ہمارے اپنے عملے کو بعض اوقات نہیں معلوم کہ نشریات کہاں سے بند ہوتی ہیں۔ یہ ٹیلیفون پر ہدایات لے رہے تھے۔ یہ جو نشریات کی تاریں ہوتی ہیں یہ کوئی عام تاریں تو نہیں ہوتی کہ کسی بھی کینچی سے کاٹ لیں تو ان کہ پاس باقاعدہ کٹر تھے جن سے انہوں نے بڑی کیبل کاٹیں ہیں۔ نشریات بند کرنا بنیادی مقصد تھا توڑ پھوڑ اور لوٹ مار تو سائڈ شو تھا۔‘

تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے فوراً خطاب میں سرکاری عمارت میں داخل ہونے والوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ’یہ غلط کیا تھا جس نے بھی کیا ہے بلڈنگ کے اندر جانے کا۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم تو کسی کو اس کی اجازت نہ دیں۔‘

ریڈ زون میں ہونے کے باوجود نا تو اس عمارت پر فوج تعینات تھی اور نہ ہی رینجرز۔ ایسے میں مظاہرین کو مکمل فری ہینڈ ملا۔ حکومت کہتی ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کی پرامن رہنے کی یقین دہانی کی وجہ سے سکیورٹی نہیں بڑھائی گئی تھی۔