بلوچستان: مزار پر فائرنگ، چھ افراد ہلاک

آواران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآواران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع آواران میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے کم سے کم چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔

بلوچستان کے محکمۂ داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی رات پیش آیا۔

انھوں نے بتایا کہ آواران ٹاؤن کے قریب زیارت ڈن میں واقع ایک مزار میں لوگ موجود تھےکہ اچانک نامعلوم افراد نے وہاں آ کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے کا تعلق ذکری فرقے سے ہے۔

زخمیوں کو علاج کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

واقعے کے بعد حملے آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

خیال رہے کہ آواران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

اس واقعے کے محرکات تا حال معلوم نہیں ہو سکے تاہم مقامی انتظامیہ نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ضلع آواران میں ذکری فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس سے قبل ضلع آواران سے متصل خضدار کے علاقے گریشا میں اس فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سات افراد زخمی ہو گئے تھے۔