سپریم کورٹ کا دھرنے ختم کروانے سے انکار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو شاہراہ دستور خالی کا حکم دینے سے انکار کر دیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ یہ انتظامی معاملہ ہے اور حکومت اس کو انتظامی طور پر حل کرے، عدالت سیاسی معاملات میں نہیں پڑے گی۔
چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ ریڈ زون اور شاہراہ دستور پر حساس اور ریاستی عمارتیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا بولنے کی باتیں کی ہیں جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا غلط تاثر جا رہا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ احتجاج سب کا حق ہے لیکن یہ قانون اور آئین کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پاکستان کے دستور اور قانون پر یقین رکھتی ہے اور وہ کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جس کی وجہ سے جمہوریت غیر مستحکم ہو۔
بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم دستور کی بات تو کرتے ہیں لیکن دوسری طرف دو جماعتوں نے شاہراہ دستور پر دھرنا دے رکھا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انصاف کی باتیں کرنے والے انصاف کے حصول میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے سائلین اور وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور بدھ کے روز محض دو تین مقدمات کی سماعت ہوئی۔
اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی اپنے گھروں سے سپریم کورٹ پہنچنے تک آدھا گھنٹہ لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنھیں عدالت کی طرف سے بھیجا گیا نوٹس رات گئے وصول ہوا ہے، لہٰذا اُنھیں اس کا جواب دینے کے لیے تین روز کی مہلت دی جائے۔ عدالت نے اُن کی یہ استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ 22 اگست کی اس کا جواب عدالت میں جمع کروائیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے آئین اور قانون کے اندر رہنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اس طرح کی یقین دہانی پاکستان عوامی تحریک کی قیادت سے بھی لی جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت عوامی تحریک کے کارکنوں کو شاہرہ دستور خالی کرنے کا حکم دیں، تاہم عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل نے یہ نوٹس موصول کر لیا ہے۔ طاہرالقادری کے طرف سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ عدالت نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کو دوباہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اُنھیں 22 اگست کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔







