قومی اسمبلی میں نواز شریف کے حق میں قرارداد منظور

پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کی صبح ’آئین اور قانون کی بالادستی‘ کے حق میں ایک متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے ’وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے استعفے اور اسمبلیوں کی تحلیل‘ کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے ڈی چوک پر دھرنا دینے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطالبات پر صدرِ پاکستان کے علاوہ سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کی ہے۔
جمعرات کے روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا جس میں وزیراعظم میاں نواز شریف بھی شریک ہوئے۔
قومی اسمبلی میں یہ قرارداد پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پیش کی۔
نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے غیر آئینی مطالبات کو مسترد کرتا ہے۔
ایوان نے ’چند سیاسی رہنماؤں‘ کی جانب سے ایوان اور وزیراعظم کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال کی بھی مذمت کی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’ایوان ان جماعتوں کے رہنماؤں اور ارکان کی جانب سے تقاریر میں اشتعال انگیز اور تحقیر پر مبنی اور توہین آمیز زبان کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔‘
اس کے علاوہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان پرعزم ہے کہ وہ ملک میں جمہوری نظام کی بقا اور اس کے آئین کے مطابق پھلنے پھولنے کو یقینی بنائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کارروائی کے دوران ارکان اسمبلی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
عوامی وطن پارٹی کے آفتاب خان شیر پاؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ چند ہزار لوگ اس اسمبلی کی تذلیل کر رہے ہیں جبکہ اعجاز الحق کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والی جماعتوں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے مذاکرات کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
آفتاب خان شیر پاؤ نے سوال کیا کہ یہ معلوم کرنا ضروری ہوگیا ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جنھوں نے ان کو اتنا منظم کیا کہ جس کے تحت دونوں جماعتوں نے ایک ہی دن لاہور سے مارچ کا آغاز کیا اور ایک دن میں اسلام آباد پہچنے۔جس کے بعد دونوں ایک دن میں ریڈ زون کی حدود میں داخل ہوئے اور ایک ہی دن میں مذاکرات کے لیے تیار ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAP
ایم کیوایم کے رکن سیدآصف حسین نے کہا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ اور جمہوریت میں ہے۔ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی جماعتوں پر بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نہ صرف بالادست ہے بلکہ آئندہ ملک کے بارے میں جو بھی فیصلے ہوں گے وہ موجوہ حکومت اور پارلیمنٹ ہی کریں گے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے بعد دھرنا دینے والے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر رکھا ہے۔ انھوں نے وزیراعظم نوازشریف کے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔
ادھر منہاج القرآن اور پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ طاہر القادری نے بھی تحریکِ انصاف کے ساتھ قومی اسمبلی کے سامنے ڈی چوک میں دھرنا دیا ہوا ہے۔
وزیراعظم کی مشاورت
ادھر وزیراعظم نواز شریف نے دھرنا ختم کرنے کے لیے عمران خان کی جانب سے پیش کردہ مطالبات پر مشاورت کے سلسلے میں صدر پاکستان اور بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جاری دھرنا ختم کرنے کے لیے چھ مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق ایوان صدر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے صدر مملکت کے ساتھ جمعرات کی صبح ہونے والی ملاقات میں عمران خان کے مطالبات اور ان پر حکومت کی حکمت عملی کے بارے میں صدر پاکستان ممنون حسین کو اعتماد میں لیا۔
مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کا بھی کہنا ہے کہ میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں بعض اتحادی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بھی مشاورت کی۔
بعض سیاسی رہنماؤں نے نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ بعض انتخابی حلقوں میں، جن کے بارے میں اعتراضات سامنے آ رہے ہیں، وہاں ضمنی انتخابات کروا دیے جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کے مطالبات کے بارے میں حتمی فیصلہ اختتام ہفتہ متوقع ہے۔







