آزادی مارچ اور انقلاب مارچ اسلام آباد کے حساس ترین علاقے میں
،تصویر کا کیپشنپارلیمنٹ ہاؤس کے صدر دروازے کے باہر مظاہرین کی موجودگی کے باعث ارکان پارلیمنٹ کو کیبنٹ سیکریٹیریٹ سے اجلاس تک پہنچنے کا رستہ فراہم کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم ہاؤس کو جانے والے رستے کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور اس کے سامنے پاکستانی فوج کے حفاظتی دستے تعینات ہیں۔ گذشتہ روز ہی وفاقی وزیر داخلہ نے ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنعمران خان کے آزادی مارچ والا کنٹینر تاخیر سے سہی، لیکن بالآخر شاہراہِ دستور پہنچ ہی گیا۔ عمران خان نے بدھ کی شام کو دوبارہ شاہراہ دستور پر جمع ہونے اور ’آزادی کا جشن‘ منانے کا کال دے رکھی ہے۔
،تصویر کا کیپشنان مظاہرین کے گذشتہ پڑاؤ کے مقابلے میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں ان لوگوں کے لیے سونے کا باقاعدہ بندوبست نہیں ہے۔ بیشتر لوگ دھوپ سے بچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے دکھائی دیے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین گذشتہ روز کے واقعات سے باخبر ہونے کے لیے اخبارات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآبپارہ کے مقابلے میں ڈی چوک میں کھانے پینے کے ریستوران اور دوکانیں نہیں ہیں۔ مظاہرین اکا دکا ریڑھی بانوں سے اشیا خرید کر کھاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابھی تک ان کے لیے کسی جماعت نے ان کے لیے ناشتے یا کھانے کا بندوبست نہیں کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشندھوپ اور بارش سے بچنے کے لیے یہ لوگ اپنا خیمہ ساتھ لائے ہیں۔ لیکن ایسے خیموں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈی چوک کو اسلام آباد کی محفوظ ترین اور صاف ترین علاقہ کہا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں تاہم آبپارہ کے برعکس یہاں پر صفائی کے زیادہ انتظامات دیکھنے میں آئے۔
،تصویر کا کیپشنرات گئے ملک کے دور دراز سے آنے والے مظاہرین صبح کی روشنی میں پارلیمنٹ ہاؤس اور دیگر عمارات کو دیکھ کر حیران اور محظوظ ہوتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنشدت پسندی کے خدشات کے پیش نظر بارود سونگھنے والے کتے مظاہرین کے بیچ میں گھمائے جاتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز تک حساس ترین قرار دیے جانے والے ریڈ زون میں نوجوان ٹولیوں کی شکل میں پارلیمنٹ اور دیگر اہم عمارتوں کے سامنے گپ شپ لگاتے نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنخواتین کے لیے سونے اور سر چھپانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ بعض خواتین کھڑے ہوئے ٹرکوں کے نیچے اور اسی طرح کی بعض دیگر نامناسب جگہوں پر سونے پر مجبور ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمصائب اور مشکلات کے باوجود مظاہرین کا جوش و خروش برقرار ہے۔
،تصویر کا کیپشندھوپ سے بچنے کے لیے رنگ برنگی چھتریوں کا استعمال۔