،تصویر کا کیپشناسلام آباد کی اہم ترین سڑک شاہراہِ دستور بدھ کی صبح تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے کیمپ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
،تصویر کا کیپشندھرنے کے مقام پر جمع کارکنوں کے لیے خوارک کا انتظام موجود تو ہے مگر ناکافی دکھائی دیتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنتحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کو بدھ کی شام تک مستعفی ہونے کی مہلت دی ہے اور ایسا نہ کرنے پر وزیراعظم ہاؤس کا رخ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے حکومت مخالف مارچ منگل کو رات گئے اسلام آباد کے حساس اور اہم ترین علاقے ریڈ زون میں پارلیمان کے سامنے دھرنا دینے پہنچے۔
،تصویر کا کیپشنریڈ زون کی حفاظت کے لیے پہلا حصار پولیس کا تھا لیکن مظاہرین کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
،تصویر کا کیپشنحکومت ریڈ زون کا انتظام پہلے ہی فوج کے حوالے کر چکی ہے اور وہاں اہم عمارتوں پر رینجرز بھی تعینات ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم سیکریٹیریٹ کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستانی فوج کے سپرد کی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپارلیمان کے سامنے پہنچنے کے بعد کارکنوں میں سے جسے جہاں جگہ ملی وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔
،تصویر کا کیپشنآزادی اور انقلاب مارچ نے منگل کی شب آبپارہ میں دھرنے کے ابتدائی مقام سے شاہراہِ دستور کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔
،تصویر کا کیپشناس دوران راستے میں رکاوٹ کے لیے رکھے گئے کنٹینر ہٹانے کے لیے کرینیں استعمال کی گئیں۔