’عدالت کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جا سکتا‘

عدالت نے متعقلہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق درخواستیں وصول کریں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعدالت نے متعقلہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق درخواستیں وصول کریں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کرنے کے باوجود عدالت کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جا سکتا اور عدالتیں ملک میں مارشل لا کی نفاذ کے باوجود بھی کام کرتی رہی ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئین میں دیے گئے اختیارات کے تحت تمام عدالتیں کام کرتی رہیں گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کے پاس ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وکلا نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کرنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کی انسٹی ٹیوشن برانچ درخواستیں وصول نہیں کر رہی جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے متعقلہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق درخواستیں وصول کریں۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور بار کے نمائندوں کو معاونت کے لیے طلب کیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی درخواست پر شہر میں فوج طلب کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ اس نوٹیفیکیشن میں اُن وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا جس کے تحت فوج طلب کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ 24 جولائی کو نوٹیفیکیشن کے اجرا سے انصاف تک رسائی کے حصول میں دشواری کا غلط تاثر دیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ بار کے سابق صدر سید نایاب حسن گردیزی نے کہا کہ ہائی کورٹ کے اختیارات محدود کرنا عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی ضلعی بار ایسوسی ایشن نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے حکومتی فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے اور اس کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت سے اس ضمن میں چھ اگست کو جواب طلب کر رکھا ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے شہر میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے اور فوج ’کوئیک رسپانس فورس‘ یعنی فوری کارروائی فورس کے طور پر کام کرے گی اور اُسے شہر میں حساس عمارتوں پر تعینات کیا جائے گا۔

حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی طرف سے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔