فوج طلب کرنے کے فیصلے پر حکومت سے جواب طلب

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کرنے کے فیصلے سے متعلق وفاقی حکومت سے چھ اگست تک جواب طلب کرلیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کا پیر کو درخواست کی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ آئین کی حکمرانی کو یقینی بنانا عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے صدر نصیر کیانی کی طرف سے وفاقی دارلحکومت میں فوج طلب کرنے کے حکومتی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
اس درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی نے درخواست گُزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُن کے پاس فوج طلب کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کی کاپی ہے جس پر شیخ احسن الدین کا کہ کہنا تھا کہ ابھی تک اُنھیں اس نوٹیفکیشن کی کاپی موصول نہیں ہوئی۔
درخواست گُزار کے وکیل شیخ احسن الدین سے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں فوج طلب کرنے سے جمہوریت غیر مستحکم ہوگی اور اس کے علاوہ شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق بھی سلب ہوں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری دور پہلے ہی بہت کم گزرے ہیں اور اس پر منتخب جمہوری حکومت کی طرف سے فوج طلب کرنے کے فیصلے سے جمہوریت کمزور ہوتی جائے گی۔
چیف جسٹس انور کاسی کا کہنا تھا کہ امن وامان کا مسئلہ کراچی اور وزیرستان میں ہے، اسلام آباد میں حالات ایسے تو نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ خود سیکیورٹی کے بغیر رہتے ہیں۔
درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ فوج کو طلب کرنے سے پہلے وفاقی کابینہ کی منظوری لینا ضروری ہے لیکن اس معاملے میں ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آیا کیونکہ وزیر اعظم ملک سے باہر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کا کہنا تھا کہ جب نوٹیفیکیشن کی کاپی موجود نہیں ہے تو پھر اس پر عدالت کیسے کوئی آرڈر پاس کرسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود ایڈشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر سے استفسار کیا کیا اُن کے پاس نوٹیففیکیشن کی کاپی موجود ہے جس پر ایڈشنل اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا۔
جسٹس انور کاسی کا کہنا تھا کہ میڈیا کے پاس اس کی کاپی موجود ہے لیکن حیرت ہے کہ ایڈشنل اٹارنی جنرل کے پاس اس کی کاپی نہیں ہے۔
عدالت نے وفاقی حکومت سے اس ضمن میں چھ اگست کو جواب طلب کر لیا ہے اور عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس درخواست کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔







