اسلام آباد میں فوج صرف نوے روز کے لیے آئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کے جلسے کو روکنے کے لیے نہیں کیاگیا بلکہ اس کا مقصد اسلام آباد کی اہم عمارتوں کی حفاظت کرنا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی نے کہا کہ فوج کو صرف تین مہینوں کے لیے طلب کیاگیا ہے اور وہ صرف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے بلائی گئی ہیں۔’فوجی اہلکار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر سویلین اتھارٹی کی مدد کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد ایئرپورٹ اور دارالحکومت کی اہم عمارتوں کی حفاظت کےلیے فوج کی طلبی کو قانونی جواز فراہم کیا ہے۔

وزیر داخلہ نے اس خدشے کی رد کیا کہ وفاقی دارالحکومت کا کنٹرول فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں گیارہ بار آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو سویلین اداروں کی مدد کے لیے طلب کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ فوج کی طلبی کو ’کسی سیاسی جماعت‘ کے مجوزہ جلسے کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں وہ دراصل سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چودھری نثار نے کہا کہ فوج کو اسلام آباد میں طلب کرنے شمالی وزیرستان میں زرب عضب شروع کرنے سے پہلے کیا گیا تھا لیکن جی ایچ کیو سے اس کی اجازرت چند روز پہلے ملی ہے۔

چودھری نثار نے کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت پہلی حکومت نہیں ہے جس نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی مدد حاصل کی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور حکومت اور فوج کے مابین اچھے ’ورکنگ ریلیشنز‘ ہیں۔