اسلام آباد ’محدود مدت‘ کےلیے فوج کے حوالے

فوج کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مدد اور تحفظ حاصل ہوگا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مدد اور تحفظ حاصل ہوگا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے فوج کو انتظامیہ کی مدد کے لیے ایک ’محدود مدت‘ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ترجمان نے ’محدود مدت‘ کی وضاحت نہیں کی۔ البتہ ترجمان نے فوج کو ’نوے روز‘ کے لیے طلب کرنے کی اطلاعات کی تردید کی۔

فوج کو اسلام آباد کی انتظامیہ کی مدد کے لیے آرٹیکل 245 کے تحت کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق فوج کے دستے ایئرپورٹ سمیت دیگر حساس مقامات پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد کے لیے اسلام آباد میں موجود ہوں گے۔

ترجمان کے مطابق فوج کو کوئیک رسپانس فورس کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور اس ضمن میں ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی کہ فوج 90 روز تک اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لیے شہر میں موجود رہے گی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت مدد اور تحفظ حاصل ہوگا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں جہاں جہاں بھی فوج کی ضرورت ہو تو وہاں پر بھی اسی ماڈل کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں چند صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج اسلام آباد کی انتظامیہ کی مدد کے لیے شہر میں موجود ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے تاہم پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور سرکاری خبر رساں ایجنسی میں اس نوٹیفکیشن سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

فوج کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق فیصلہ اس ماہ کے شروع میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفوج کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق فیصلہ اس ماہ کے شروع میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک 14 اگست کو اسلام آباد میں جلسے کے انعقاد سے متعلق ضلعی انتظامیہ کودرخواست نہیں دی۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت جہاں کہیں بھی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا جاتا ہے تو اُس علاقے میں ہائی کورٹ کے اختیارات ختم ہوجاتے ہیں۔ فوج کی موجودگی کے دوران ہونے والے اقدامات کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی فوج کی طرف سے ہونے والی کارروائی کے خلاف حکم امتناعی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے کسی بھی علاقے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق فیصلہ اس ماہ کے شروع میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے ممکنہ درعمل کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں فوج کو طلب کرنا وفاقی حکومت کی ناکامی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو حکومت وفاقی دارالحکومت کے 15 لاکھ مکینوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی وہ ملک کی 18 کروڑ عوام کو کیسے تحفظ فراہم کرے گی۔