پاکستانی صحافی کی رہائی کے لیے صدر کرزئی سے اپیل

افغانستان کی جیل میں قید پاکستانی صحافی فیض اللہ چار سال قید کی سزا کے خلاف اپیل کے لیے تاریخ ملنے کے لیے منتظر ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنافغانستان کی جیل میں قید پاکستانی صحافی فیض اللہ چار سال قید کی سزا کے خلاف اپیل کے لیے تاریخ ملنے کے لیے منتظر ہیں

پاکستان نے افغان صدر حامد کرزئی سے درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان میں قید پاکستانی صحافی فیض اللہ خان کی سزا معاف کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں پاکستان کے وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ افغانستان کا قانون اپنے صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو معاف کر دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافی فیض اللہ نے جرم نہیں بلکہ غلطی کی ہے۔

’اس غلطی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، آپ کی عدالت کے مطابق انھوں نے بہت بڑا جرم نہیں کیا، وہ بغیر دستاویزات کے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کا دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات فیض اللہ کی گرفتاری کے بعد سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں۔

’قونصلیٹ جنرل نے جیل میں ان سے رابطہ کیا، وکیل کی خدمات حاصل کیں اور اب ان کا اپیل کا مرحلہ ہے۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ اپیل کا مرحلہ پورا ہونے کے بعد صدر اپنا اختیار استعمال کر سکتے ہیں تاہم پاکستان کی کوشش ہے کہ جلد اپیل کی تاریخ مل جائے۔

وزیر اطلاعات نے صحافیوں کو بتایا کہ اپیل کے فیصلے کے بعد ضرورت پڑنے پر افغان صدر سے باضابطہ طور پر سرکاری سطح پر اپیل کی جا سکے گی اور وہ یہ اپیل ملکی میڈیا کے ذریعے افغان صدر تک پہنچا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سمیت کے دنیا کے تمام ممالک کی عدالتوں کے فیصلوں اور قوانین کا احترام کرتا ہے۔

’جس طرح ہم قانون کا احترام کرتے ہیں اور عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں اسی طرح ہم حامد کرزئی سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنا اختیار استعمال کریں۔‘

پرویز رشید نے بتایا کہ اب تک حکومت کی جانب سے ہونے والی کوششوں میں مکمل کامیابی تو نہیں ملی تاہم دو ایسے الزامات تھے جن سے عدالت نے انھیں بری کر دیا اور امید ہے کہ جلد ہی فیض اللہ بری ہو جائیں گے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے اس موقعے پر اپنے ہمراہ موجود فیض اللہ کی اہلیہ سے کہا کہ امید ہے کہ ان کے شوہر جلد رہا ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستانی پرائیویٹ ٹی وی نیوز چینل اے آر وائی کے رپورٹر فیض اللہ خان کو رواں برس 25 اپریل کو پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان شہر نگرہار میں مقامی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ ٹی وی انٹرویو کر کے واپس پاکستان آ رہے تھے۔

افغان پولیس نے پاکستانی صحافی فیض اللہ پر بغیر پارسپورٹ اور ویزہ کے غیرقانونی طور پرافغانستان میں داخل ہونے کا مقدمہ قائم کیا تھا جس پر نگرھار کی ایک مقامی عدالت نے انھیں آٹھ جولائی کو چار سال قید کی سزا سنائی۔