پاکستانی صحافی کو رہا کیا جائے: رپورٹرز سان فرنٹیئر

فیض اللہ کو طالبان کے بارے میں ایک رپورٹ کی تحقیقات کے دوران افغان حکام نے مشرقی افغانستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کر لیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفیض اللہ کو طالبان کے بارے میں ایک رپورٹ کی تحقیقات کے دوران افغان حکام نے مشرقی افغانستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کر لیا تھا
    • مصنف, احمد رضا
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز سان فرنٹیئر اور پاکستان کی غیرسرکاری تنظیم فریڈم نیٹ ورک نے افغانستان میں گرفتار ہونے والے پاکستانی صحافی فیض اللہ خان کو چار برس قید کی سزا سنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

فیض اللہ طالبان کے بارے میں ایک رپورٹ کی تحقیقات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں گئے تھے اور افغان حکام نے انھیں مشرقی افغانستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کر لیا تھا۔

آر ایس ایف کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کی ایک فوجی عدالت نے فیض اللہ کو قید کی سزا سنائی۔ یہ عدالت داخلی خطرات اور سلامتی سے متعلق خطرات سے وابستہ مقدمات کے لیے بنائی گئی ہے۔

آر ایس ایف اور فریڈم نیٹ ورک نے افغان فوجی عدالت کے عزائم پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا: ’کیا یہ باضابطہ سفری دستاویزات کے بغیر افغانستان جانے والے غیر ملکی صحافیوں کے لیے پیغام ہے؟‘ یا پھر یہ ’ان موضوعات کی تحقیقات کرنے والے غیرملکی صحافیوں کے لیے دھمکی ہے جنھیں حساس سمجھا جاتا ہے؟‘

بیان میں فیض اللہ کو سنائی گئی سزا کو انتہائی غیر مناسب قرار دیتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ اپیل پر اس سزا کو ختم کیا جائے۔

فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک اور آر ایس ایف کے اہلکار بینجمن اسماعیل نے کہا ہے کہ ایک صحافی کے لیے اس طرح کی سزا شرمناک اور غیر مناسب ہے۔

’ہمیں شبہ ہے کہ اتنی سخت سزا کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان حکام اس بات کی وضاحت کریں کہ ایک انتظامی جرم کی سماعت کے لیے فوجی عدالت کا انتخاب کیوں کیا گیا؟‘

اقبال خٹک اور بینجمن اسماعیل نے افغان حکام سے بھی کہا ہے کہ وہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے کردار کو مفادِ عامہ کے محافظ کے طور پر دیکھیں اور صحافیوں کے لیے ویزا کی شرائط نرم کی جائیں، انھیں سرحد پر ہی ویزا جاری کیا جائے۔

آر ایس ایف کے مطابق فیض اللہ کو اپنی ایک رپورٹ کے سلسلے میں طالبان کے رہنماؤں سے ملاقات کے لیے سفر کے دوران اس سال اپریل میں صوبے ننگر ہار سے گرفتار کیا گیا تھا اور ابتدا میں افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی نے ان پر جاسوسی کا الزام لگایا تھا مگر ان کے خلاف کوئی باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

فیض اللہ کی رہائی کے سلسلے میں منگل کو کراچی میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جبکہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے بدھ کو اس سلسلے میں اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔