’پاکستانی صحافی سچ لکھنے سے کتراتے ہیں‘

یہ سیمینار کسی بھی نیوز چینل کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جبکہ اخبارات کے رپورٹرز کی بھی تعداد انتہائی کم نظر آئی
،تصویر کا کیپشنیہ سیمینار کسی بھی نیوز چینل کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جبکہ اخبارات کے رپورٹرز کی بھی تعداد انتہائی کم نظر آئی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی

بلوچ سٹوڈنٹس آرکنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کے رکن لطیف جوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کے صحافتی اداروں کے صحافی موت کے ڈر سے سچ اور حق لکھنے سے کتراتے ہیں۔

کراچی پریس کلب میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لطیف جوہر نے کہا کہ وہ گزشتہ پچیس روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر ہیں اور اس عرصے میں ان کا وزن بائیس کلوگرام کم ہو چکا ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کو رہا کیا جائے جنہیں مبینہ طور پر کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیاگیا ہے۔

کمزور جسامت والے نوجوان نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ موت برحق ہے، ہر کسی کو مرنا ہے لیکن جن کا ضمیر مر جائے تو ان کی وقت سے پہلے موت ہوجاتی ہے۔

لطیف جوہر نڈھال حالت میں بھی بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور اداروں کے رویوں پر آدھا گھنٹے تک بات کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ زندہ بچ نہیں پائیں گے لیکن انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ تاریخ کے اوراق میں زندہ رہیں گے۔

کراچی پریس کلب میں میڈیا کا کردار اور بلوچستان میں انسانی حقوق کے نام سے یہ سیمینار کسی بھی نیوز چینل کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جبکہ اخبارات کے رپورٹرز کی بھی تعداد انتہائی کم نظر آئی۔

لطیف جوہرگزشتہ پچیس روز سے تادم بھوک ہڑتال پر ہیں اور اس عرصے میں ان کا وزن بائیس کلوگرام کم ہوچکا ہے

،تصویر کا ذریعہ BBC

،تصویر کا کیپشنلطیف جوہرگزشتہ پچیس روز سے تادم بھوک ہڑتال پر ہیں اور اس عرصے میں ان کا وزن بائیس کلوگرام کم ہوچکا ہے

لطیف جوہر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ چوبیس دنوں سے نیوز چینلز کی گاڑیاں ان کے کیمپ سے گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں ’جو وزرا یا کسی بلی کے بچے تک کے بچانے کی کوشش کی خبریں تک دینے کے لیے دوڑیں لگاتے ہیں لیکن ان کے کیمپ کی طرف نظریں کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ ابلاغ عامہ کے طالب علم نہیں کیونکہ انہیں تو پڑھنے نہیں دیا جارہا لیکن ’کیا خبر کی تشریح تبدیل ہوچکی ہے، پچیس دنوں سے ایک طالب علم کی بھوک ہڑتال کیا خبر نہیں؟‘

انھوں نے کہا کہ ماؤزے تنگ اور مہاتما گاندھی کے مارچ کے بعد اس خطے میں دو ہزار کلومیٹر پیدل مارچ کرنے والے ماما قدیر کا احتجاج خبر نہیں تھی یا حق کی بات کرنے والے دس سالہ چاکر بلوچ کی ہلاکت خبر کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں بلوچوں کے بارے میں غلط بیانی کی جا رہی ہے ہے کہ وہ قاتل ہیں، لیکن در حقیقت ہم جمہوریت پسند، آزادی پسند، ترقی پسند اور بین الاقوامی پسند قوم ہیں۔

پریس کلب کے باہر جیو چینل کے خلاف احتجاجوں اور لاؤڈ سپیکروں پر تقریروں اور نعرے بازی کے دوران یہ پروگرام جاری رہا جس سے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی بی بی گل، انسانی حقوق کمیشن کے اسد بٹ، صحافی عاجز جمالی، سماجی کارکن ناصر کریم اور دیگر نے خطاب کیا۔

ناصر کریم کا کہنا تھا کہ نام نہاد جمہوریت پسند اور بلوچ قوم پرست تنظیموں نے اقتدار کے حصول کے لیے بلوچستان کی اصل سیاسی قوتوں کو عسکریت پسند قرار دے کر اپنا الو سیدھا کیا اب جس کی قیمت اسٹیبلشمنٹ کو بھی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ہر طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل خطرے میں ہے، پاکستان خطرات سے دوچار ہے لیکن اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ میں کوئی عاجزی اور انکساری نظر نہیں آتی، زمینی حقائق پر ان کی آنکھیں کھل جانی چاہیے۔