’میران شاہ کا 40 فیصد علاقہ شدت پسندوں سےخالی لیکن آگے مشکلیں‘

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران اب تک 20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں: پاکستانی فوج

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران اب تک 20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں: پاکستانی فوج
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں صدر مقام میران شاہ کا 40 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کروا لیا گیا ہے لیکن فوجی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ جوں جوں آپریشن آگے بڑھے گا تو فوج کو مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

ایک فوجی اہلکار نے میران شاہ کے 40 فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کروانے کی تصدیق کی ہے، تاہم زمینی کارروائی کے مکمل ہونے کی مدت کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگانے سےگریز کیا ہے۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق فوج کو اکا دکا فائرنگ، راکٹ حملوں یا بڑی تعداد میں خود ساختہ دھماکہ خیز مواد سے نمٹنا پڑ رہا ہے لیکن کسی بڑی مزاحمت کی ابھی اطلاعات نہیں ہیں۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کم مزاحمت کا مطلب ہے کہ شدت پسند ابھی علاقے میں موجود ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ’20 پاکستانی فوجی اب تک ہلاک ہوچکے ہیں تو کچھ تو وہ کر رہے ہیں اور وہاںموجود ہیں ۔‘

پاکستان فوج کا شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر اب تک کی کارروائی کو منصوبہ بندی کے مطابق قرار دے رہا ہے۔ فوج کے مطابق اب تک کئی بم فیکٹریاں، خودکش حملوں آوروں کی تربیت کے مراکز اور کمانڈ اور عسکری مواد ملا ہے۔

فوج کے خیال کے مطابق شمالی وزیرستان کے تقریباً تمام قبائلی علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور اب اگر کوئی پیچھے بچا ہے تو وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

اطلاعات تھیں کہ میران شاہ کے قریب ایدک کے علاقے میں مقامی قبائلیوں نے اپنے علاقے کو چھوڑنے سے انکار کیا تھا۔

لیکن فوجی اہلکار کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتدا میں فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کی پیشکش کی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ اس علاقے کے لوگوں نے وہاں مقیم چار ازبکوں کو وہاں کارروائی کے آغاز سے قبل ہی بےدخل کر دیا تھا۔

غیرقانونی تحریک طالبان پاکستان کی خاموشی کو بھی ماہرین اہمیت دے رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں تو اب ان کا میڈیا سے رابطہ شاید ممکن نہیں تھا تاہم جن علاقوں میں کارروائی نہیں ہو رہی ہے، طالبان وہاں سے بھی میڈیا کے ساتھ رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید ان کا یہ خوف ہے کہ وہ بھی مزید بیانات کی صورت میں نظر میں آسکتے ہیں اس لیے خاموش ہیں۔

عسکری ماہرین اور اہلکاروں کا خیال ہے کہ کارروائی جیسے جیسے آگے بڑھے گی تو اسی نسبت سے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ فوجی حکام امید کر رہے ہیں کہ ملک کے عوام خصوصاً سیاست دان کارروائی میں فوج کی مکمل حمایت کریں گے کیونکہ یہ کارروائی انھی کے مطالبے پر کی جا رہی ہے۔

اس مرتبہ کی کارروائی کی ایک اور خوش آئند بات افغانستان کی فوج کا بظاہر تعاون ہے۔ افغان عسکری وفد نے گذشتہ روز پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کے دوران اپنے علاقے میں نگرانی مزید بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ یہ کتنا جلد ممکن ہو سکتا ہے۔