’پاک افغان سرحد کی ناقص سکیورٹی بھی ایک مسئلہ‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن میں کامیابی کا انحصار خاصی حد تک پاک افغان مشترکہ سرحد کی سکیورٹی پر سمجھا جاتا ہے۔
پاک افغان مشترکہ سرحدیں خطے میں امن کے حصول کے لیے بھی اہم ہیں۔ 2014 میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے نکلنے کے پیش نظرگذشتہ چند برسوں میں پاکستان اور افغانستان میں سفارتی اور فوجی سطح پر گرم جوشی نظر آئی ہے مگر اس گرم جوشی کے نتیجے میں کوئی بڑی پیش رفت تاحال نہیں ہوئی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحدوں میں انتہا پسندوں کو پناہ دینے پر بیان بازی اور الـزام تراشی کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔
شمالی وزیرستان کے آپریشن کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کی گذشتہ روز جمعرات کو اسلام آباد میں فوجی سطح پر ہونے والی ملاقات میں سرحدوں کی سکیورٹی سرِفہرست رہی۔
پاکستانی فوج دعویٰ کرتی ہے کہ آپریشن کے ذریعے تمام شدت پسندوں کا محاصرہ کر لیا گیا ہے، تاہم غیر مصدقہ خبریں عام ہیں کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے پہلے ہی شدت پسند سرحد پار کر کے افغانستان میں پناہ لے چکے ہیں اور پاکستان پر حملے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
اس سلسلے میں سرحد پار کر کے افغانستان داخل ہونے والے ایک کمانڈر نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان نے ہمارے ساتھ یہ کیا ہے۔ ہم نے اس کی خاطر امریکہ سے جنگ لڑی اور امریکہ کو شکست دینے کے لیے ہم نے اپنا خون بہایا اور اب پاکستان ہمیں کہتا ہے کہ ہتھیار ڈال دو، لیکن ہم شرمناک زندگی نہیں گزاریں گے۔ ہم قیامت تک پاکستان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔‘
افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا اور شمالی وزیرستان آپریشن کے پیش نظر کیا دونوں ممالک سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سرحد کو مکمل طور پر سیل کر بھی سکتے ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا: ’ابھی تک میری اطلاعات کے مطابق بات چیت اور تجاویز کے بغیر عملی سطح پر سرحدوں میں ابھی تک ایسے تعاون کی کوشش نہیں کی گئی جو درکار ہے۔‘
اس تعاون میں کمی کی وجہ بیشتر ماہرین کے خیال میں پاکستان کی افغانستان کی جانب دہری پالیسی ہے، جس کے تحت افغانستان اور امریکہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستانی فوج خارجہ پالیسی کے مقاصد کے لیے افغان مخالف انتہا پسندوں کی تربیت اور پرورش کر رہی ہے اور اس کا ثبوت پاکستان کی شمالی وزیر ستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ پیش کیا جاتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ایاز وزیر کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے قیام کے بعد ہی سے دونوں ملکوں کے درمیان ڈیورنڈ لائن سے متعلق اعتراضات موجود ہیں۔ نائن الیون کے بعد دونوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر مل بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن باتوں کے علاوہ دونوں ملکوں نے کچھ نہیں کیا، اور آج بھی اگر دونوں اپنی نیت ٹھیک کر لیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔‘
اس سلسلے میں رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا: ’یہ اتنا آسان مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ پاکستان افغانستان دونوں کے ایک دوسرے سے چند مطالبات ہیں جو ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ افغان مطالبے پر پاکستان نےگذشتہ برس 40 سے زیادہ طالبان کمانڈر رہا تو کیے مگر انھیں افغانستان کے حوالے نہیں کیا۔
’اب پاکستان تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فصل اللہ کی افغانستان میں حراست اور پاکستان حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن اس کے پورا ہونے کے امکانات کم ہیں۔ اس لیے جب تک اعتماد سازی کی فضا قائم نہیں ہو گی سرحدوں کی ناقص سکیورٹی مسئلہ بنی رہے گی۔‘
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے پیش نظر دونوں ملک اسی بداعتمادی کے ساتھ چلتے رہے تو سرحد کے دونوں اطراف انتہاپسندی کا بازار گرم رہے گا اور اس کا خمیازہ پاکستانی اور افغان قوم کو بھرنا پڑے گا۔







