’افغانستان سے رابطے کیے، شدت پسندوں کا خیرمقدم نہیں ہو گا‘

سردار مہتاب احمد خان عباسی کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد غیر ملکی دہشت گردوں کا صفایا کرنا اور ان کو ٹارگٹ بنانا ہے
،تصویر کا کیپشنسردار مہتاب احمد خان عباسی کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد غیر ملکی دہشت گردوں کا صفایا کرنا اور ان کو ٹارگٹ بنانا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ کہ شمالی وزیرستان میں حالیہ آپریشن کے حوالے سے پڑوسی ملک افغانستان سے بھی رابطے کیے گئے ہیں اور ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ بھاگ جانے والے شدت پسندوں کا افغانستان میں خیر مقدم کیا جائے گا۔

پیر کو گورنر ہاوس پشاور میں صحافیوں کو شمالی وزیرستان میں جاری کاروائیوں سے متعلق بریفینگ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ’افغانستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور دونوں پڑوسی ممالک میں بدامنی ایک دوسرے سے جوڑی ہوئی ہے جس سے دونوں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اس لیے دونوں ممالک کو اس اہم موڑ پرایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔‘

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں غیر ملکی شدت پسندوں نے نہ صرف مقامی آبادی کو یرغمال بنایا ہوا تھا بلکہ وہ غیر ملکی ہوکر بھی ہمارے ہی سرزمین پر ہمارے ہی اہداف کو نشانہ بنارہے تھے اس لیے ایسے عناصر کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرنا ضروری ہوگیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا بنیادی مقصد غیر ملکی دہشت گردوں کا صفایا کرنا اور ان کو ٹارگٹ بنانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں کئی سالوں سے غیر ملکی جنگجوؤں نے اپنا راج قائم کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے مقامی آْْبادی بھی ان کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی تھی۔

گورنر نے کہا کہ ’یہ ہمارا ملک ہے اور کسی غیر ملکی دہشت گرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری ہی سرزمین کو ہمارے ہی خلاف استعمال کریں۔‘

ان کے مطابق غیر ملکی دہشت گردوں کے نام نہاد ہمدردوں کو بھی چاہپے کہ وہ اس ملک پر مزید ظلم نہ کرے کیونکہ سیاست کھیلنے کا وقت اب ختم ہوچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی دہشت گردی جس دیدہ دلیری سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے تھے اس کے بعد ان کے خلاف بھرپور کاروائی کرنا ضروری ہوگیا تھا۔

سردار مہتاب احمد خان نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد مشکلات کا شکار ضرور ہونگے تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ عام لوگوں کا ہر لحاظ سے خیال رکھا جائے اور ان کا کم سے کم نقصان ہو۔

ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ یہ سوال اب بے معنی ہوچکا ہے کہ شمالی وزیرستان آپریشن پر فوج اور حکومت کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی حکومت کو بھی آپریشن کے حوالے سے مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کسی طرح کا کوئی ابہام موجود نہیں۔