طالبان کے ٹھکانوں پر حملے جاری، پاکستان بھر میں سخت سکیورٹی اقدامات

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا مقصد تمام دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا کرنا اور دہشت گردی کی برائی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

ملک کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب غیر قانونی تحریک طالبان پاکستان نے ایک بیان میں غیرملکی سرمایہ کاروں، کمپنیوں اور ملٹی نیشنل اداروں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات فوری طور پر معطل کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیں۔

آپریشن ضربِ عضب

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان فوجی کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، فوجی دستے مستعد ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق فوجی دستے شہری انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون قائم رکھے ہوئے ہیں۔

آئی ایس پر آر کے ایک بیان کے مطابق مطابق پیر کو شمالی وزیرستان میں سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے کے نتیجے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ افغان سرحد اور غلام خان کے علاقے کے درمیان پیش آیا۔

شمالی وزیرستان میں اتوار کو شروع ہونے والے آپریشن ضرب غضب کے بعد پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو یہ پہلا جانی نقصان ہوا۔

پیر کو ہی دیر سے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور سات شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے نتحجے میں سات شدت پسند اور دو فوجی ہلاک ہوئے۔

بیان میں مزید کیا گیا ہے کہ فائرنگ کا تبادلہ اس وقت ہوا جب شدت پسند ایک محصور علاقے سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کی صبح شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقے شوال میں جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مزید 27 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق اس علاقے میں کوئی شہری آبادی نہیں تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کو ہونے والے کامیاب حملوں میں مجموعی طور پر 140 شدت پسند مارے گئے ہیں، جن میں اکثریت ازبک باشندوں کی ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں دہشت گروں کے ایک بڑے رابطہ مرکز کو تباہ کیا گیا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن منصوبے کے مطابق چل رہا ہے اور تاحال کسی بھی شہری آبادی والے علاقے میں حملے نہیں کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی دستوں نے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کا گھیراؤ کر لیا ہے جن میں میر علی اور میران شاہ کے قصبے شامل ہیں۔ فرار ہونے کی کوشش کرنے والے سات عسکریت پسندوں کو گذشتہ رات میر علی کے نواح میں ہلاک کیا گیا۔

بیان کے مطابق میر علی میں فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی اہلکار زحمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس وقت شمالی وزیرستان ایجنسی سے شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے فوج تعینات کر کے دیگر ایجنسیوں اور قبائلی علاقوں سے رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایجنسی کے اندر فوج نےشدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا ہے جن میں میر علی اور میران شاہ کے قصبے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ایجنسی سے مطابق مقامی آبادی کےمنظم اور باوقار انخلا کے لیے مختص مقامات کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی انتظامیہ اور ڈزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے بےگھر ہونے والے افراد کے لیے نقل و حرکت کے انتظامات کر رکھے ہیں۔

افغان سکیورٹی فورسز یعنی افغان نیشنل آرمی اور افغان بارڈر پولیس سے بھی دوسری جانب سرحد بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ شدت پسند سرحد پار فرار نہ ہو سکیں۔ انھیں نورستان صوبے میں کنڑ میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

طالبان کا ردِ عمل

شاےد اللہ شاہد کا الزام تھا کہ حکومت پاکستان اور فوج نے پاکستانی عوام کی امن کی خواہش کو خاک میں ملا دیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشاےد اللہ شاہد کا الزام تھا کہ حکومت پاکستان اور فوج نے پاکستانی عوام کی امن کی خواہش کو خاک میں ملا دیا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے بی بی سی کو ای میل پر بھیجے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی ادارے اپنے معاملات معطل کر کے پاکستان سے نہیں جاتے تو وہ اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے: ’یہ بات سبھی پر واضح ہے کہ تماری سرگرمیوں اور تجارت سےحاصل ہونے والا سرمایہ مظلوم قبائلی عورتوں اور بچوں پر آتش و آہن بن کر گرتا ہے، تحریک طالبان پاکستان پاکستانی مسلمانوں کی تباہی کے ذمہ دار ایسے کسی بھی ادارے کو ہرگز معاف نہیں کرےگی۔‘

تاہم بیان میں اتوار سے جاری فوجی کارروائیوں کے دوران کسی جانی یا مالی نقصانات کے بارے میں تحریک کے ترجمان نے کوئی بات نہیں کی۔ ترجمان کا الزام تھا کہ حکومت پاکستان اور فوج نے پاکستانی عوام کی امن کی خواہش کو خاک میں ملا دیا ہے اور مغربی اشارے پر شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کے نام سے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ اس اعلان کے بعد اب وہ اور حکومت پاکستان پورے ملک میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے اچانک کارروائی کے آغاز سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے نہ صرف تحریک طالبان بلکہ حافظ گل بہادر گروپ، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کے غیر ملکی عناصر سب کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سخت سکیورٹی اقدامات

کراچی میں گذشتہ دنوں شدت پسندوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کیا تھا
،تصویر کا کیپشنکراچی میں گذشتہ دنوں شدت پسندوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کیا تھا

شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

ملک کے صوبہ سندھ کی حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے ترجمان کے مطابق ملیر چھاؤنی سے فوجی دستے روانہ کر دیے گئے ہیں اور فوجی اہم قومی تنصیبات اور حساس مقامات پر تعینات کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت امن امان کے بارے میں اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں پولیس حکام کے علاوہ ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر نے بھی شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعلیٰ کو شہر کی صورتحال اور خدشات کے بارے میں انٹلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر آگاہی دی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آپریشن’ضربِ عضب‘ کے آغاز کے بعد پنجاب میں سلامتی کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ لاہور کے کور کمانڈر اور ڈی جی رینجر پنجاب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مقصد حصول کے لیے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔