شمالی وزیرستان: ’جیٹ طیاروں کی بمباری میں 80 شدت پسند ہلاک‘

حکام کے مطابق بظاہر ان حملوں کا ہدف ازبکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو تھے

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق بظاہر ان حملوں کا ہدف ازبکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو تھے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں سے بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 80 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رات ڈیڑھ بجے کے قریب کیے جانے والے حملوں میں دتہ خیل کے دیگان نامی علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر ازبک جنگجو تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بظاہر ان حملوں کا ہدف ازبکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو تھے۔ ازبک جنگجوؤں نے حال ہی میں کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں تیس سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان شدت پسندوں کا تعلق کراچی حملوں کے منصوبہ سازوں سے تھا۔

بیان کے مطابق پاکستانی فوج نے یہ فضائی کارروائی ازبک اور دوسرے شدت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی ہے۔ حملوں میں بارودی مواد کا ایک ذخیرہ بھی تباہ کیا گیا ہے۔

حملوں میں ہونے والے نقصان کے بارے میں مزید تفیصلات حاصل کی جارہی ہیں۔

اس ہفتے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی یہ اپنی نوعیت کی دوسری کارروائی ہے۔

اس ہفتے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی یہ اپنی نوعیت کی دوسری کارروائی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس ہفتے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی یہ اپنی نوعیت کی دوسری کارروائی ہے

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات ہوئی فوجی کارروائی میں شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کارروائی میں ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مقامی ذرائع متضاد اطلاعات فراہم کر رہے ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے جبکہ بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں کوئی زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جس وقت یہ حملے کیے گئے اس وقت اس مقام پر شدت پسندوں کا ایک اجلاس جاری تھا۔ سرکاری سطح پر ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں ایک اہم ازبک کمانڈر بھی ہلاک ہوئے ہیں جو کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ بتائے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا نام عبد الرحمان المانی تھا۔

یہ کارروائی تحصیل دتہ خیل کے ایک پسماندہ علاقے دیگان میں کی گئی ہے ۔ دیگان کا علاقہ میرانشاہ سے کوئی 20 سے 25 کلو میٹر دور دتہ خیل روڈ پر واقع ہے ۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ اور دیگر عملہ جیسے موجود ہی نہ ہو۔ گذشتہ دنوں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے کے بعد بھی انتظامیہ سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان کے دفتر اور ان کے کنٹرول روم کے نمبرزسے کسی قسم کا کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

میرانشاہ سے ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کل سے فضا میں دو سے تین جیٹ طیارے اور دو ہیلی کاپٹر گشت کر رہے ہیں۔ میرانشاہ میں مکمل خاموشی ہے جبکہ مضافاتی علاقوں سے مختلف اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں مکمل کرفیو ہے کوئی باہر نہیں جا سکتا اس لیے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ کہاں کتنا نقصان ہوا ہے۔