’پاکستان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں‘

،تصویر کا ذریعہPFO
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے افغانستان کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث شدت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔
دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت اس بارے میں واضح ثبوت پیش نہیں کر سکی۔
ترجمان نے وزیرستان آپریشن سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو بند کرنے سے متعلق بات چیت کی اطلاعات کی تردید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی بار افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ آپریشن کے باعث وزیرستان سے فرار ہونے والے کسی دہشت گرد کو پناہ نہ دے اور نہ ہی کسی شدت پسند گروہ کو اپنی سر زمین پاکستان کےخلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے۔
ادھر جمعرات کو پاکستان کے دورے پر آنے والے افغانستان کے آٹھ رکنی فوجی وفد نے جی ایچ کیو میں ڈی جی ملٹری آپریشن میجر جنرل عامر ریاض سے ملاقات کی ہے۔
افغان وفد کی قیادت ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل افضان امان کر رہے تھے جبکہ وفد میں افغان نیشنل سکیورٹی کونسل،افغان ملٹری انٹیلی جنس اور افغان بارڈر پولیس کے نمائندے شامل تھے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس ملاقات میں افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور وہاں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں کے معاملات بھی بات ہوئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار سے گولہ باری کے واقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستانی حکام نے افغان وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستانی علاقے سے افغانستان میں کبھی بھی بلااشتعال فائرنگ نہیں کی گئی اور پاکستان افغان علاقے سے دہشت گردوں کے حملے یا فائرنگ پر ہی اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملاقات میں سرحدی رابطوں کے نظام اور سرحد پر تعاون کے طریقۂ کار بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ دونوں ممالک کے حکام نے موثر سرحدی میکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
کشمیر میں مداخلت قبول نہیں
دفترِ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران نریندر مودی کے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دورے کے حوالے سے تسنیم اسلم نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور پاکستان کسی صورت میں بھی بھارتی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے بارے میں ایک اور سوال پر تسنیم اسلم نے کہا کہ گذشتہ رات بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوٹلی کے مقام پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پاکستانی فوجی سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔
ترجمان کے مطابق جلد ہی سرحدی کمانڈروں کے اجلاس میں اس مسئلے کو حل کیا جائےگا۔
بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کے متعلق ترجمان نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارتی جیلوں میں بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جو مختلف جرائم کے الزامات کے تحت اپنی سزائیں پوری کرنے کے باوجود تاحال قید ہیں، جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
انھوں نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات بھارتی حکام کی جانب سے قانونی تقاضے بروقت پورے نہیں کیے جاتے جبکہ بعض اوقات جرائم کے دیگر الزامات میں انھیں دو بار سزائیں دی جاتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں دونوں ممالک کے قیدیوں کے ان مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے جو سال میں دو دفعہ بھارت میں پاکستانی قیدیوں اور پاکستان میں بھارتی قیدیوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے جیلوں کا دورہ کرے گا۔
یہ کمیشن ان قیدیوں کے مقدمات اور دیگر قانونی مسائل کا جائزہ لیے کر ان کی رہائی کے لیے مشترکہ تجاویز اور اقدامات پر غور کرے گا۔
ہندوستانی قیدیوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دی گئی فہرست کے مطابق ہندوستانی جیلوں میں 264 پاکستانی قید ہیں جن میں 116 ماہی گیر ہیں۔
ترجمان نے بھارتی فہرست کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق بھارتی جیلوں میں اس وقت 500 سے زیادہ پاکستانی مختلف الزامات کے تحت سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
عراق کی موجودہ صورتِ حال میں وہاں پاکستانیوں کے تحفظ کے لیے ہونے والے اقدامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ حکومت عراق میں قائم سفارت خانے کے ذریعے پاکستانیوں کی صورت حال سے باخبر ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ عراق میں جلد حالات معمول پر آ جائیں جس کے لیے پاکستان ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔







