’وزیر اعظم نہیں تو ان کا نمائندہ بھارت جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہPFO
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ بھارت میں نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ بحال ہو جائیں گے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے بھارت کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے متعلق فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہ کی تو ان کا نمائندہ تقریب میں ضرور شریک ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات جلد شروع ہوں تاکہ دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنے کردار کو یقینی بنا سکیں۔
حال ہی میں دو بھارتی صحافیوں کی ملک بدری کے متعلق ایک سوال کے جواب میں تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وزارت اطلاعات سے متعلق ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذکورہ صحافیوں کے ویزے کی مدت ختم ہوچکی تھی اور ویزے کی مدت میں اضافہ نہ کرنا وزارت خارجہ کا مسئلہ نہیں اورنہ ہی وزارت براہ راست کسی صحافی کو ویزا جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان میں دونوں بھارتی صحافیوں کو کام کرنے کی نہ صرف اجازت تھی بلکہ انھیں تمام تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا جہاں مقامی صحافی شرکت کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کے اندر اس وقت کوئی پاکستانی صحافی موجود نہیں ہے اور جب تھے تب بھی پاکستانی صحافیوں کو وہاں کی سرکاری تقریبات میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں تسنیم اسلم نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت کے ساتھ دیگر تنازعات پر بات چیت کے دوران یہ مسئلہ زیادہ اہم نہیں رہا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پاکستان کے خدشات ضرور تھے کہ انڈیا کی جانب سے بعض ایسی تنظیموں کی معاونت ہو رہی ہے جن پر پاکستان میں پابندی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان سے گذشتہ روز اغوا ہونے والے چینی سیاح کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق ایک اور سوال پر ترجمان نے کہا کہ چین سمیت کسی بھی غیرملکی کو سیکورٹی کی فراہم کرنا وزارت خارجہ کا کام نہیں ہے تاہم صوبائی اور وفاقی حکومت ان کی بازیابی کے لیے بھر کوشش کر رہی ہے۔
ایک اور سوال پر ترجمان تسنیم اسلم نے واضع کیا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم کی آڑ میں جاسوسی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ شکیل آفریدی پاکستانی ہیں جنھوں نے پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور پاکستانی قانون کے تحت ہی ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔







