’طالبان سے مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے‘

پاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے آٹھ نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد ہو تاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی روابط میں مزید اضافہ ہوسکے: ترجمان دفترِ خارجہ

،تصویر کا ذریعہPFO

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے آٹھ نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد ہو تاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی روابط میں مزید اضافہ ہوسکے: ترجمان دفترِ خارجہ
    • مصنف, ایوب ترین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت میں جاری عام انتخابات اور افغانستان میں صدارتی انتخاب کے نتیجے میں منتخب ہونے والے نئی حکومتوں کے قیام سے نہ صرف سفارتی، تجارتی اور سیاسی تعلقات میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں قیام امن کے لیے ہونے والے اقدامات کو بھی تقویت ملے گی۔

یہ بات وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہی۔

انھوں نے بھارت میں ہونے والے عام انتخابات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کا بنیادی اور جمہوری حق ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کا انتخاب کرے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق پاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے آٹھ نکاتی ایجنڈے پرعمل درآمد ہو تاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی روابط میں مزید اضافہ ہوسکے۔

تسنیم اسلم نے افغان صدارتی انتخابات کے بعد نئی حکومت اور مستقبل میں پاک افغان دو طرفہ تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پرامن افغانستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے لازمی ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں انتخابات کے نتیجے میں منتخب صدر اور حکومت کے ساتھ بتہر تعلقات پاکستان کے لیےبہت اہم ہیں اور پاکستان نئی افغان قیادت کے ساتھ سفارتی، سیاسی اور تجارتی تعلقات کومذید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے اورنئی افغان حکومت سے بھی پاکستان کو اسی طرح کے مثبت ردِعمل کی توقع ہے۔

تسنیم اسلم نے واضع کیا کہ تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور موجودہ افغان حکومت کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان نے ایرانی سرحدی گارڈ کی اسی ہفتے بازیابی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سے پاکستان نے ملک کے اندر تما م متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا تھا تاہم خوش قسمتی سےمذکورہ مغویان کی بازیابی ایرانی سرحدی حدود میں ہی عمل میں آئی۔

تسنیم اشرف نے کہا کہ اس واقعہ کا پاک ایران دوستانہ اور پہلےسے مستحکم تعلقات پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے جس کی واضح مثال حال ہی میں پاک ایران مشترکہ بحری فوجی مشقیں ہیں۔