سعودی ایئر لائنز کی پشاور کے لیے پروازیں معطل

اطلاعات ہیں کہ پروازیں معطل ہونے کی وجہ سے بیرونی ممالک سے پشاور پہنچنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناطلاعات ہیں کہ پروازیں معطل ہونے کی وجہ سے بیرونی ممالک سے پشاور پہنچنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

غیر ملکی فضائی کمپنی سعودی ایئر لائنز نے سکیورٹی خدشات کے باعث پشاور سے آنے جانے والی تمام پروازوں کو عارضی طورپر معطل کردیا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان عابد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی ایئر لائنز نے سنیچر کو سعودی عرب سے آنے والی پرواز کا رخ پشاور کے بجائے اسلام اباد کی طرف کردیا۔

انھوں نے کہا کہ اس پرواز پر پشاور کے 300 سے زائد مسافر سوار تھے جنھیں اسلام آباد میں اتار دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ سعودی ایئر لائنز نے پروازیں منسوخ کرنے کا فیصلہ پشاور ایئر پورٹ کے حدود میں طیارے پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی ایئر لائنز نے دو دن تک پشاور سے آنے جانے والی تمام پروازوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس سلسلے میں غیر ملکی فضائی کمپنی یکم جولائی کو دوبارہ اپنے فیصلے پر غور کرے گی۔

اس سے پہلے تین دیگر غیر ملکی ایئر لائنز اتحاد ایئر ویز، ایمریٹس ایئر لائنز اور قطر ایئر ویز نے بھی پشاور ایئر پورٹ کے حدود میں طیارے پر حملے کے بعد یہاں سے آنے جانے والی تمام پروازوں کو معطل کردیا تھا۔

ان ایئر لائنز کی پروازیں اب پشاور کے بجائے اسلام آباد میں اتر رہی ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ بعض دیگر غیر ملکی ایئر لائنز کی بیرونی ممالک سے آنے اور جانے والی پروازیں پشاور ایئر پورٹ سے مسلسل جاری ہے اور ان میں کوئی تعطل نہیں آیا ہے۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ پروازیں معطل ہونے کی وجہ سے بیرونی ممالک سے پشاور پہنچنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ چار دن قبل پشاور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے باچا خان ایئر پورٹ پر سعودی عرب سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز پر مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی جس میں ایک خاتون ہلاک اور عملے کے دو ارکان زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد پولیس نے ایئر پورٹ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا تھا۔