پاکستان کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی مزید سخت

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
کراچی ایئرپورٹ سے پیر کی سہ پہر رحیم یار خان کے لیے پی آئی اے کے جہاز کی پرواز نے ملک بھر میں ہوائی سفر کے منتظر مسافروں کو یہ پیغام تو بھیج دیا کہ پروازوں کا معمول بحال ہو رہا ہے لیکن انھیں ہوئی اڈوں پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔
کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی ریڈ الرٹ نافذ کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو کڑی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔تمام ہوائی اڈوں پر اتوار کی رات ہی کو سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی تھی جبکہ ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کو چوکس کرنے کے علاوہ چھٹی پر گئے عملے کو بھی طلب کر لیاگیا۔ اس کے علاوہ مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔
مسافروں کے ساتھ جانے والے سامان کی تلاشی اور سکینگ پر بھی عملے کو بڑھا دیا گیا ہے جبکہ ہوائی اڈوں پر داخلے سے لے کر پارکنگ تک میں مسلح اہلکار کھڑے کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بےنظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریڈ الرٹ ہے اور داخلے کے تمام خصوصی اجازت نامے معطل کر دیے گئے ہیں۔
لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی سکیورٹی ریڈ الرٹ نافذ ہے اور ہر مسافر کو تلاشی کے کڑے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
ایئر پورٹ جانے والے راستے پر بھی خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں اور گاڑیوں کی خصوصی تلاشی لی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور کا ہوائی اڈہ چھاؤنی کے علاقے میں ہے اس لیے راستے میں پولیس کے علاوہ فوج کے ناکے بھی لگائے گئے ہیں۔ ملک کے دوسرے بیشتر ہوائی اڈوں کو رات کے وقت سیل کر دیا گیا تھا تاہم پیر کی صبح آمدو رفت بحال ہوگئی، البتہ سکیورٹی بدستور ہائی الرٹ پر ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے پشاور ایئرپورٹ پر دسمبر 2012 میں شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کراچی کے واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی پہلے سے مزید سخت کر دی گئی ہے اور ایئرپورٹ کی بیرونی دیواروں کے باہر بھی پولیس کی نفری تعینات ہے۔ اس کے علاوہ ایئر پورٹ کو جانے والے راستوں پر اضافی سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔
پیر کو پشاور ایئر پورٹ پر پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔ بعض پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ کچھ پروازیں پانچ سے چھ گھنٹے تاخیر سے پہنچی ہیں۔







