خیبر ایجنسی میں جھڑپ، تین سکیورٹی اہلکار اور چار شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں چار عسکریت پسند اور تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح خیبر ایجنسی کی جمرود تحصیل میں پیش آیا۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں چار شدت پسند اور خاصہ دار فورس کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب مسلح عسکریت پسندوں نے جمرود بائی پاس کے علاقے میں قائم سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق چیک پوسٹ پر ایف سی اور خاصہ دار فورس کے اہلکار تعینات تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں رات گئے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور اس دوران دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے۔ اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہونے کے بعد سے طالبان تنظیموں کے ذرائع ابلاغ سے رابطے کم ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے طالبان کا موقف سامنے نہیں آرہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







