خیبر ایجنسی: حملے میں امن رضا کار ہلاک

گزشتہ چند ہفتوں سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں امن لشکروں پر طالبان کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگزشتہ چند ہفتوں سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں امن لشکروں پر طالبان کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے ایک رضاکار پر شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے جس میں وہ ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی صبح باڑہ سب ڈویژن کے علاقے قمبر آباد میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی حامی امن کمیٹی کے ایک اہلکار گھر سے بازار جارہے تھے کہ سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنائے گئے۔ اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں لشکر کے رضاکار ہلاک ہوگئے۔

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے شخص قمبر آباد کا باشندہ ہے جس کا امن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع نے ان کا تعلق طالبان مخالف کمیٹی سے بتایا ہے۔

یاد رہے گزشتہ چند ہفتوں سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا میں امن لشکروں پر طالبان کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے باجوڑ ایجنسی اور سوات میں بھی حکومتی حامی امن کمیٹیوں کے اہلکاروں پر حملے کیے گئے تھے جس میں پولیس اہلکار سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں ماموند قبائلی لشکر باجوڑ ایجنسی کے ایک اہم قبائلی سردار مارے گئے تھے۔

دریں اثناء حکام کے مطابق خیبر ایجنسی میں جمرود تحصیل کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے مرکزی پاک افغان شاہراہ پر کرفیو نافذ کرکے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔

سرچ آپریشن

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سنیچر کی صبح قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمرود طورخم سڑک پر کرفیو نافذ کرکے اسے ہر قسم کے ٹریفک کےلیے بند کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن کے باعث مرکزی پاک افغان شاہراہ شام پانچ بجے تک ٹریفک کےلیے بند رہے گی۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کیاگیا ہے کہ سرچ آپریشن کس کے خلاف کیا جارہا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاک افغا ن شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے خیبر ایجنسی میں سڑک کے کنارے خاصہ دار اور سکیورٹی فورسز پر حملے کئے گئے تھے جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔