خیبر پختونخوا:پر تشدد واقعات میں چار افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں لیویز حکام کے مطابق بدھ کی رات نامعلوم مسلح افراد نے لیویز چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ضلع ٹانک میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے رضاکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو حملہ آوار مارے گئے ہیں۔
ضلع مالاکنڈ کے تھانہ درگئی کے محرر جاوید نے صحافی انور شاہ کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع مالاکنڈ کے علاقے سخاکوٹ میں غاورگاؤں میں پیش آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس چیک پوسٹ پر پانچ لیویز اہلکار تعینات تھے کہ رات تین بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے دو لیویز اہلکاروں ارشد اور عمران کو ہلاک کر دیا۔
انھوں نے بتایا کہ لیویز اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد فرار ہوگئے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کیا گیا۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں درگئی ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب صوبے کے جنوبی ضلع ٹانک میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے رضاکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو حملہ آوار مارے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات ٹانک کے دور افتادہ علاقے کوٹ اعظم میں تھانہ گومل کے حدود میں پیش آیا۔
تھانہ گومل کے ایک اہلکار مہتاب خان نے پشاور میں نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ مسلح شدت پسندوں نے طالبان مخالف امن کمیٹی کے رکن عطاؤ اللہ کے مکان پر رات کی تاریکی میں اچانک خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ امن کمیٹی کے رضاکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آوار مارے گئے۔ اہلکار کے مطابق حملے میں امن کمیٹی کے رضاکار محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختوا کے ضلع ٹانک اور مالاکنڈ ڈویژن شدت پسند کارروائیوں کی زد میں رہے ہیں۔
مالاکنڈ کے علاقے میں پہلے بھی لیویز اہلکاروں پر متعدد حملے ہو ئے ہیں جن میں کئی اہلکار ہلاک و زخمی چکے ہیں۔
گذشتہ سال مئی میں مالاکنڈ کے ایک قصبے بازدرہ میں نمازِ جمعہ کے وقت دو مساجد میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں 13 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
سنہ 2006 میں درگئی میں فوج کے ایک تربیتی مرکز پر خودکش حملے میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ ضلع مالاکنڈ، مالاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے جس کے دیگر اضلاع میں لوئر دیر، اپر دیر، سوات، شانگلہ، بونیر اور چترال شامل ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے مالاکنڈ ڈویژن کے اکثر اضلاع شدت پسند کارروائیوں کی زد میں رہے ہیں۔
گذشتہ سال ستمبر میں ضلع اپر دیر میں ہونے والے دھماکے میں پاکستانی فوج کے ایک میجر جنرل سمیت دو افسران اور ایک اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
مالاکنڈ ضلع سے متصل ضلع سوات میں بھی گذشتہ سال جنوری میں ایک تبلیغی مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور 55 زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح ضلع ٹانک میں پہلے بھی طالبان مخالف افراد پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے ہوتے رہے ہیں۔ اس ضلع کی سرحدیں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے ملی ہوئی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹانک کا شمار خیبر پختون خوا کے حساس اضلاع میں ہوتا ہے۔ یہاں حکومت کی طرف سے بعض علاقوں کو ’نو گو ایریا ’ بھی قرار دیا جاچکا ہے۔







