تصفیے کا فوری اور مفت نظام

- مصنف, سید انور شاہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،سوات
سوات کے علاقے بحرین سے تعلق رکھنے والی خاتون تاج محل عرف پاس بی بی صوبائی حکومت کی طرف سے بننے والی مصالحتی کمیٹی کی ممبر ہیں۔
وہ مصالحتی کمیٹی کے ذریعے ہونے والے جرگوں میں شریک ہو کر مختلف مقدمات کی سماعت کرتی ہیں اور مصالحت کے ذریعے تنازعات کو حل کرتی ہیں۔ وہ یہ سب مفت کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ علاقے کے لوگ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی اس کوشش کو سراہتے ہیں۔
علاقے کی خواتین اس بات پر انتہائی خوش ہیں کہ اب مصالحتی جرگوں میں خواتین کو بھی نمائندگی حاصل ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختو نخواہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری جنگ میں مقدمات کے حوالے سے پولیس اور عدالتوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے اور حکومت پر عوامی اعتماد بحال رکھنے کی خاطر مصالحتی کمیٹیوں کا نظام عمل میں لایاگیا ہے۔ اور اب اس نظام کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع پشاور، مردان ،نوشہرہ ، سوات اور صوابی سمیت دیگر اضلاع سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔
ضلع سوات میں تھانوں کی سطح پر بننے والی مصالحتی کمیٹیاں تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس نظام میں دو فریقوں کی جانب سے پولیس یا کسی اور قانونی نظام کی شمولیت کے بغیر مصالحت پر اتفاق کرنے کے بعد ایک غیر جانبدار مصالحتی کمیٹی مقدمے کی سماعت کرتی ہے۔
یہ کمیٹیاں دہشت گردی، ملکی دفاع اور سلامتی کے مسائل کے علاوہ دیگر ہر قسم کے تنازعات پر مصالحت کی کوششیں کرتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں قائم ان کمیٹیوں نے اب تک سات سو سے زائد تنازعات کے کیسز حل کیے ہیں۔
سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں مینگورہ پولیس سٹیشن کی سطح پر بننے والی مصالحتی کمیٹی کے سربراہ محمد زبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ سال دو ہزار تیرہ کے دوران اب تک اس مصالحتی کمیٹی نے دوسو دو تنازعات کو مصالحت کے ذریعے حل کیا ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی قتل، اقدام قتل، لین دین اور خاندانی تنازعات کی سماعت کرتی ہے اور دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں تنازعہ حل کردیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق کچھ کیسز پولیس کی طرف سے انھیں دیے جاتے ہے جبکہ اکثریت معاملات میں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے خود کمیٹی کے پاس آتے ہیں کیونکہ تصفیے کا یہ نظام فوری اور مفت ہے۔ اس میں وکیل اور دیگر اخراجات سے فریقین بچ جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات کے ایک ممتاز وکیل اختر منیر نے بتایا کہ اصل میں مصالحتی کمیٹیاں پی ٹی ٹائپ کیسز اور معمولی جھگڑوں کے کیسز کے حل کے لیے بیٹھائے گئے ہیں تاکہ وہ فریقین کے درمیان راضی نامہ کر لیں اور کیس عدالتوں میں نہ جائے۔ ان کے مطابق تاہم یہ کیمٹیاں اب اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کیسز میں مداخلت کرتی ہیں جو بڑے کیسز ہوتے ہیں اور عدالتوں میں زیر سماعت ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور اگر کسی نے ان کی اس حیثیت کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا تو ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہےگی۔
سوات کے مقامی لوگوں کی اکثریت ان مصالحتی کمیٹیوں کے حق میں ہیں۔ سوات کے علاقے مدین کے رہائشی سلطان زیب نے بتایا کہ عدالتوں میں انصاف کا عمل سست اور مہنگا ہے، اس وجہ سے تنازعات کے حل میں کئی برس لگ جاتے ہیں اور اخراجات لاکھوں تک پہنچ جاتے ہے۔ ان کے مطابق سوات میں عسکریت پسندی کے فروغ کی بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ اکثر انصاف خریدنا پڑتا تھا اور لوگ عدالتوں کے اس نظام سے تنگ آچکے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان نے اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری اور سستے انصاف کے فراہمی کا نظام پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
پولیس کے مطابق مصالحتی کمیٹیوں پر عوام کی بڑھتے ہوئے اعتماد سے پولیس پر دباؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وادی سوات میں زمینوں کے حل طلب تنازعات نے عسکریت پسندی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور چھوٹے طبقے نے بڑے بڑے زمینداروں سے انتقام لینے کی کوشش کی۔ مبصرین کے مطابق اگر ریاست فوری اور سستا انصاف مہیا کرے تو عسکریت پسندوں کے لیے عوامی حمایت ختم ہوجائے گی۔







