کوئٹہ: ماحولیاتی تحفظ ٹریبیونل کے سربراہ قتل

کوئٹہ میں ماضی میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں ماضی میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعے کی صبح نامعلوم حملہ آوروں نے ماحولیات کے تحفظ کے ٹریبیونل کے سربراہ کو قتل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ کوئٹہ میں اسمگلی روڈ پر ٹریبیونل کے دفتر پر پیش آیا۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کوئٹہ پولیس کے ایس پی صدر محمود نوتے زئی نے بتایا کہ اسمگلی روڈ پر ٹریبیونل کے سربراہ سخی سلطان کے دفتر پر موٹر سائیکل پر سوار دو افراد پہنچے جن میں سے ایک دفتر میں داخل ہو گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش اور عینی شاہدین سے معلوم ہوا ہے کہ ایک حملہ آور دفتر کے باہر پہرے پر کھڑا رہا جبکہ دوسرے نے دفتر کے اندر جا کر حملہ کیا۔

ایس پی محمود نوتے زئی نے بتایا کہ حملہ آور نے نائن ایم ایم پستول استعمال کیا اور سخی سلطان کے سر میں گولی ماری۔

جج سخی سلطان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال کے راستے میں ہلاک ہوگئے، جبکہ پولیس کے مطابق حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ سخی سلطان ماحولیات کے تحفظ کے ٹریبیونل کے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ حملے کے بعد بی بی سی کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تاہم اس دعوے کی غیر مصدقہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا تھا کہ سخی سلطان کوئٹہ میں ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ تھے اور ان کا شمار شہر کی انتہائی معروف شخصیات میں ہوتا تھا۔